میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 81
69 ہمیں نماز سکھاتے ہیں ہر قسم کے وعظ اور نصائح سے ہمیں نیک بننے کی تحریک کرتے ہیں آریوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور خود بھی رات دن نہ دھوپ دیکھتے ہیں نہ بھوک نہ سردی کا خیال کرتے ہیں اور نہ گرمی کا مگر جب معلوم ہو جائے کہ فلاں گاؤں میں آریہ منڈلی پہنچی ہے اور باجووں وغیرہ کا خوب زور ہے تو یہ فورا وہاں پہنچ کر ان کی غلط رسومات کا مقابلہ شروع کر دیتے ہیں اور ہیں بھی یہ بڑے خوش اخلاق اپنا ہی کھاتے ہیں۔اپنے بال بچوں کو چھوڑ کر اتنی دور غیر علاقہ اور غیر زبان لوگوں کو آریوں سے بچانے کی کوشش میں ہیں اور اگر یہ بھی کافر ہیں تو مسلمان کون ہیں۔کیا وہ مسلمان ہوں گے جو ہمارے گھروں سے آکر کھانا کھا ئیں نہ کہیں بچے پڑھائیں اور نہ اسلام سکھائیں۔یہ کیسے مسلمان ہیں۔غرضیکہ ہمیں وہاں چار طرح کا کام کرنا پڑتا تھا۔(۱) پبلک میں اپنے عقائد بیان کرنا۔(۲) دیو بندی خدام صوفیہ اور بریلویوں کے اعتراضات کے جوابات دینا۔(۳) آریوں کا دن رات مقابلہ کرنا۔(۴) ملکانوں کو اسلام سکھانا اور اس کے علاوہ بچوں کو پڑھانا۔ہمیں نہ تو رات کو چین تھا اور نہ ہی دن کو چاروں طرف سے ہمارے گاؤں میں لوگ آتے رہتے تھے اور چاروں طرف ہی جاتے رہتے تھے جن سے ہمیں بھی خبریں مل جایا کرتی تھیں اور کچھ ہماری خبریں باہر لے جایا کرتے تھے اس طرح میرا کام تیزی سے جاری رہا۔تعلیم القرآن اور نوجوان خواتین کچھ عرصہ کے بعد بڑی عمر کی لڑکیوں نے اپنے والدین کو مجبور کیا کہ ہمیں بھی قرآن پاک مولوی صاحب پڑھائیں۔میں نے انکار کر دیا کہ بالغ لڑکیوں کو میں نہیں پڑھاؤنگا انہوں نے نہ پڑھانے کی وجہ دریافت کی۔میں نے کہا کہ لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح علم حاصل کرنے میں برابر کی حقدار ہیں لیکن ان بالغ لڑکیوں کو کوئی عورت