میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 65
53 کیکر ہے تو کوئی ڈھاک ہے، کوئی شہتوت یا آم ہے تو کوئی نیم ہے غرضیکہ نام کا اشتراک ہے مگر تاثیرات اور فوائد سب ایک ہیں مگر ہم سب کے اعتقادات جو الگ انگ قائم ہو چکے ہیں اگر ہم کوشش کریں تو یہ ایک ہو سکتے ہیں اور یہ کوشش اسی طرح ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے آریہ عقائد بیان کریں ہم سن کر ان پر غور کرتے ہیں۔اگر وہ ہمارے دین حق سے اچھے ہوئے تو ہم ان کو قبول کر لیں گے۔پھر میں اپنے ناقص علم کے ساتھ اسلامی عقائد و اخلاق بیان کروں گا پھر آپ ان پر غور کریں پھر ان دونوں میں جو اچھے ہوں گے ان پر ہم دونوں اکٹھے ہو جائیں گے۔سارے مجمع نے اس بات کو بہت پسند کیا مگر ٹھاکر صاحب نے کہا کہ آپ سے ہماری کوئی بات نہیں ہے۔آپ پنجابی ہیں۔میں تو اپنی برادری کو اپنے ساتھ ملا کر جاؤں گا۔میں نے کہا ہم سب مہادیو یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اس وجہ سے آدمی کہلاتے ہیں۔اس لئے سب برادری ہیں۔جب خدا کا بنایا ہوا سورج ساری دنیا کے کام آتا ہے، اس کی ہوا ، پانی ، آگ ، چاند ستارے آسمان اور زمین غرضیکہ اس کی بنائی ہوئی ہر چیز دنیا کے کام آتی ہے تو خدا کا دین بھی ایک ہونا چاہئے اور اس وقت ضرورت بھی ساری دنیا میں ایک ہی دین کی ہے تاکہ جس طرح سب کے جسم ایک جیسے ہیں ، اعتقاد بھی ایک جیسا ہو اور آپس میں منتقل اتحاد پیدا ہو جائے۔اگر ہر برادری کا مذہب علیحدہ علیحدہ ہو تو پھر دن رات جھگڑے ہی ہوتے رہیں گے۔ٹھاکر صاحب بولے کہ دنیا میں جس طرح پہلے دن سے ایک ہی سورج چلا آرہا ہے اسی طرح دنیا میں ابتدائی کتاب دید مقدس چلی آرہی ہے اگر اس پر تمام دنیا ایمان لے آئے تو سب جھگڑے آج ہی ختم ہو جاتے ہیں۔میں نے ٹھاکر کا شکریہ ادا کیا کہ آخر آپ نے بھی محسوس کر ہی لیا کہ میرا بیان کرنا صحیح تھا مگر ٹھاکر صاحب آپ نے میرے پہلے بیان پر غور نہیں کیا کہ بعض باتیں تو سب کی مشترک ہیں لیکن بعض