میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 64 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 64

52 کیونکہ وہ لوگ کہانیوں کے بہت شوقین تھے۔صبح کے وقت گاؤں میں چرچا ہو گیا کہ "ارے پنجابی مولبی صاحب تو عجب کی کہانی کاہت ہیں" یعنی پنجابی مولوی صاحب تو غضب کی کہانی کہتے ہیں۔میں بھی دن بھر اس قسم کی کہانیاں گھڑ تا رہتا تھا جس سے دین حق کے ساتھ محبت بھی پیدا ہو اور دلچسپ بھی ہو۔غرضیکہ تین چار دنوں میں وہ لوگ میرے ساتھ مانوس ہو گئے۔میں نے آہستہ آہستہ ارد گرد کے دیہات کا دورہ کرنا شروع کر دیا اور آریوں کے تعلقات اور آمد و رفت کا پتہ رکھا۔مجھے نگلہ گھنو میں رہتے ہوئے پانچواں ہی دن تھا کہ نگلہ گھنو میں پہلا مباحثہ ٹھاکر گردندر سنگھ آریہ اپدیشک وہاں آگیا۔اس گاؤں میں ہندو ٹھاکروں کے دو ہی گھر تھے اور ایک گھر بنئے کا تھا مگر یہ سب لوگ میرے واقف ہو چکے تھے۔اس آریہ ٹھاکر نے اگر ان لوگوں کو آریہ بن جانے کی پر زور تحریک کی اور ان کے جذبات کو بہت بھڑکایا اور ان میں ایک خون ، ایک تمدن اور ایک لباس اور ایک ہی قسم کی زبان ہونے اور اعتقاد میں ذرا سا اختلاف ہونے پر انہیں متحد ہونے کی ہدایت کی۔میں خاموشی سے ان کی ساری باتیں سنتا رہا۔جب وہ اپنی بات ختم کر چکا تو میں نے کہا تھا کر صاحب آپ نے متحد ہونے کی تحریک کی ہے میں نے اس سے بہت اچھا اثر لیا ہے اور ہم سب لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام لوگوں کا ایک ہی خون ہے ایک ہی خوراک ہے ایک ہی آنے کا راستہ ہے اور ایک ہی جانے کا راستہ ہے لباس بھی سب پہنتے ہیں اور غذا بھی سب کھاتے ہیں۔زمین بھی سب کی ایک ہے اور آسان بھی سب کا ایک ہی لیکن جس طرح ہم سب کی شکلیں جداگانہ ، عقلیں جداگانہ علم جداگانہ اور اعتقاد بھی جدا گانہ ہیں لیکن بعض باتوں میں ہم سب ایک جیسے ہیں اور بعض میں مختلف ہیں اسی طرح نباتات جمادات اور حیوانات کا حال ہے۔درخت کا لفظ تو سب کے لئے بولا جاتا ہے مگر کوئی