میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 66 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 66

54 میں تبدیلی ضروری ہے۔مثلا بارش بھی ابتدائے زمانہ سے چلی آرہی ہے۔مگر ہمیں اس کی ہر وقت ضرورت نہیں ہوتی۔اگر ہمیں کسی وقت اس کی ضرورت ہے تو کسی وقت دھوپ کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔آپ جانتے ہیں کہ پہلی جماعت کا قاعدہ صرف پہلی جماعت کے لئے ہی ہوتا ہے۔لیکن اس کے حروف ساری کتابوں میں استعمال ہوتے ہیں اور طالب علم کی استعداد کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی کتابیں بھی بدلتی جاتی ہیں۔اسی طرح بچپن میں بھی ہمیں لباس ہی پہنایا جاتا تھا مگر اب جوانی میں ہم وہ لباس نہیں پہن سکتے کیونکہ ہم بڑے ہو چکے ہیں۔اسی طرح اگر ابتداء میں دید تھا تو وہ ابتدائی قاعدہ کی طرح تھا۔اب جب کہ دنیا کی استعداد بڑھ چکی ہے تو انہیں اب مکمل کتاب کی ضرورت تھی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ کتاب قرآن کریم ہے۔جیسے جوان آدمی کے ٹاپ کے کپڑے بڑھاپے تک کام میں آتے ہیں اسی طرح قرآن کریم اب قیامت تک کام دینے کا دعویدار ہے مگر دید میں ایسا کوئی دعوئی نہیں ہے کہ میں ساری دنیا کے لئے کامل کتاب ہوں۔جب دید دعویدار ہی نہیں تو مدعی ست گواہ چست والا معاملہ آپ نہ کریں۔ٹھاکر صاحب بولے آپ ہماری باتوں میں دخل نہ دیں۔یہ پنجاب نہیں کہ دھنیا، جولاها ، لوہار، ترکھان سب ایک ہی ہوں۔ہم راجپوت ہیں اور بادشاہوں نے ان ہمارے بھائیوں کے بزرگوں کو پتاشے کھلا کر مسلمان کر لیا تھا اور ہم لوگوں نے بھی ستی کی کہ انہیں منہ نہ لگایا۔اب ہم نے تہیہ کر لیا ہے کہ ہم انہیں اپنے ساتھ ملا کر رہیں گے خواہ ان کے پاؤں پکڑنا پڑیں یا ان کے آگے ہاتھ جوڑنا پڑیں۔میں نے کہا کہ ٹھاکر صاحب میں بھی آپ کا خونی رشتہ دار ہوں اور پنجابی ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔پنجاب میں گاؤں کے گاؤں راجپوتوں کے آباد ہیں اور میں خود بھی راجپوت کھو کھر ہوں۔کوئی بھٹی ہیں کوئی چوہان راٹھور ہیں۔رکھا دھنیا مسلمان