میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 63
51 نے ہمیں قادیان سے بھجوایا ہے۔تفصیل سے باتیں بتا ئیں تو وہ بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی کہ یہاں کے لوگ بہت جاہل ہیں ان سے گھبرا نہ جانا۔میں نے کہا اماں جی اگر یہ لوگ ہمارے بھائی، جاہل نہ ہوتے تو آریہ ان پر حملہ کیوں کرتے۔وہ یہ کہتے ہوئے چلنے لگی کہ میں آپ کے لئے "ستو" یعنی ستو لاتی ہوں۔میں نے کہا اماں جی آپ کا شکریہ۔میرے پاس ستو بھی ہے اور بھنے ہوئے چنے اور جو موجود ہیں آپ کوئی تکلیف نہ کریں۔ہمیں حضرت صاحب کا حکم ہے کہ اپنا ہی کھانا ہے کسی کو اس کی تکلیف نہیں پہنچانا۔وہ بڑے اصرار کے بعد لے ہی آئی اور کہنے لگی بیٹا تین دن تک تو مہمان رہ کر حق رکھتے ہیں پھر چوتھے دن خود انتظام کر لینا۔اس معمر خاتون کا نام ممتاز بیگم تھا اور یہی اس گاؤں میں نماز و روزہ سے واقف تھی۔باقی سب اسلام کی تعلیم سے ناواقف تھے۔اس کی زرعی زمین کافی تھی لیکن بوجہ بیوہ ہونے کے مزارعان بد دیانتی کر لیا کرتے تھے۔اس کی دو شادی شدہ بیٹیاں تھیں اور ایک لڑکا نصیر الدین خان تھا جو مڈل پاس تھا۔میرا پہلے دن ہی ان سے تعارف ہو گیا تھا۔میں نے ظہر کی اذان کہی۔بعض لوگ اذان سن کر آئے اور مجھے مل کر چلے گئے۔رات کے وقت مائی جی ہی کھانا لے آئی اور میں نے اپنا سامان ان ہی کے گھر رکھ دیا۔خود میں چوپال یعنی ایک مشترکہ مکان ہوتا ہے جس میں ہر گھر کی ایک چارپائی موجود رہتی ہے اور سب گھروں کے مہمان کھانا وغیرہ کھا کر رات وہیں آکر بسر کرتے ہیں۔اگر کوئی مسافر ہو تو اس کا کھانا بھی چوپال ہی میں آجاتا ہے۔رات کو یہ سب لوگ میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔نمبردار بھیجو خان اور وہاں کا رئیس مظفر خان اس کا والد جان محمد خان دلاور خان ، خیراتی خان ، میاں خلل، منشی خاں، عثمان خاں، تھو خاص نور محمد خاں اور افضل خاں وغیرہ وغیرہ۔یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔میں نے ان سے تعلقات پیدا کرنے کے لئے ایک دلچسپ کہانی سنائی