میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 53 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 53

43 گیر ہو کر مجلس میں چلے گئے۔مجلس والوں نے کہا کہ ہمیں بھی اپنے فیصلہ سے آگاہ کریں۔میں نے وہ لفافہ بابو محمد عبد اللہ صاحب کے حوالے کر دیا۔انہوں نے اسے ساری مجلس میں پڑھ کر سنایا تو سب احباب نے شیخ صاحب کو اور مجھے مبارکباد دی اور مٹھائی منگوا کر تقسیم کی گئی۔اننده اتوار کو صوبیدار ڈاکٹر یعقوب خان حضرت انس کے روضہ پر دعا صاحب ایک جرنیل کی چار گھوڑوں والی بگھی پر مجھے اور چند دوسرے آدمیوں کو قصبہ زبیر دکھانے لے گئے۔وہاں حضرت زیبر حضرت طلحہ اور حضرت حسن بصری کی قبریں تھیں۔وہاں دعا کرنے کے بعد ہم شام کو واپس آگئے۔پھر مجھے معلوم ہوا کہ "عشار" سے کافی دور جنگل میں حضرت انس کا روضہ ہے۔اسے دیکھنے کا دل میں بڑا اشتیاق پیدا ہوا۔چنانچہ چھ احمدی میرے ساتھ ہو لئے۔بڑی مشکل سے چھ گھنٹے کا پیدل سفر کر کے وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔جب ہم قریب پہنچے تو پہلے تو کتنے شور مچانے لگے۔پھر ایک عربی محافظ بندوق تان کر ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا۔انہیں اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے تھے۔میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر بلند آواز سے یا رفیقی السلام علیکم کہا۔یہ سنتے ہی اس نے بندوق وہیں رکھ دی اور میرے ساتھ بغلگیر ہو گیا۔بعدہ ہمیں اپنے ہمراہ لے کر روضہ پر پہنچا۔چونکہ ہم بہت تھک چکے تھے لہذا میرے ہمراہی تو فاتحہ پڑھ کر باہر اگر چٹائی پر بیٹھ گئے مگر مجھے دعا کا از حد لطف آیا اور میں نے وہاں نصف گھنٹہ سے زیادہ وقت دعا کی اور اس وقت میرے دل میں سے دو اشعار ٹوٹے پھوٹے الفاظ مین نکلے - وهو هذا - گرا ہوں تیرے در پر میں بلا لو یا خدا مجھ کو پھنسا ہوں دشمنوں کے ہاتھ چھڑا لو یا خدا مجھ کو