میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 52
42 ۱۹۱۴ء سے یہ منظور کر لیا۔اس وقت ہم سب واپس آگئے اور اگلے اتوار کو پھر حاضر ہوئے شیخ صاحب کو میں ایک الگ مکان میں لے گیا اور عرض کی کہ خدا کے لئے میری عرض کو غور سے سنیں۔میں آپ سے اس وقت بحث نہیں کرنا چاہتا۔صرف یہ دریافت کرتا ہوں کہ سلسلہ احمدیہ کا قیام صرف باتونی بنانے کے لئے ہوا ہے یا کچھ روحانیت حاصل کرنے کے لئے بھی۔شیخ صاحب نے کہا کہ یہ روحانی سلسلہ ہے۔میں نے کہا جزاک اللہ۔میرا بھی یہی عقیدہ ہے۔مگر آپ یہ بتائیں کہ اب ۱۹۲۰ء ہے اور اختلاف خلافت سے شروع ہوا کیونکہ مولوی محمد علی صاحب خلافت کے خلاف تھے اور نبوت کا انکار کرتے رہے اور آپ لوگ مولوی صاحب کا ساتھ دے رہے ہیں اور یہ یقین کئے بیٹھے ہیں کہ مولوی صاحب کا مسلک ہی صحیح ہے۔اب اس کا تصفیہ میں روحانی طور پر کروانا چاہتا ہوں۔آپ کو اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے ہاتھ میں آپ کی جان ہے کہ کیا اس چھ سات سالہ اختلافی دور میں آپ کو کسی کشف یا خواب کے ذریعہ اشارہ " یا کنایتہ خدا تعالی کی طرف سے کبھی تسلی دی گئی ہے کہ مولوی صاحب کا مسلک صحیح ہے اور میاں صاحب کا مسلک صحیح نہیں ہے؟ شیخ صاحب نے نہایت مومتانہ دلیری سے یہ کہکر کہ " نہیں " انہوں نے مجھ پر وہی سوال وہی (ویسی) قسم دے کر دہرایا کہ آپ ہی بتائیں کہ آپ کو کوئی تسلی خدا تعالی کی طرف سے دی گئی ہے؟ میں نے انہیں الفاظ میں حلف اٹھا کر ۱۹۱۳ء کے ماه رمضان کی ستائیسویں تاریخ کا خواب بیان کر دیا۔(جو پیچھے بیان ہو چکا ہے) شیخ صاحب نے سارا خواب سن کر اپنی جیب سے کاغذ نکال کر کچھ لکھنا شروع کیا۔ایک لمبا خط لکھنے کے بعد اسے ایک سادہ لفافہ میں ڈال کر میرے حوالہ کیا۔اس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ سے معافی مانگ کر بیعت قبول کرنے کی درخواست کی تھی جسے پڑھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔اور ہم دونوں خوشی سے بغل "