میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 54
44 یہی اک دل میں آتا ہے کروں تبلیغ میں حق کی مبلغ اپنی رحمت سے بنا لو یا خدا مجھ کو میرا یہ اندازہ ہے کہ میں نے جتنی وہاں دعائیں کی تھیں اس کا بیشتر حصہ خدا تعالی نے پورا کر دیا ہے۔جو باقی ہے اسے بھی خدا تعالیٰ سے پورا ہونے کی پوری امید ہے۔انہی ایام میں بیت برلن کے لئے حضرت صاحب کی تحریک پہنچی جو پہلے ستر ہزار ، پھر ایک لاکھ بعدۂ ایک لاکھ تیس ہزار روپیہ تک پہنچ گئی۔میں نے وہاں یہ اعلان کیا کہ ہم یہاں پچھتیں احمدی ممبر ہیں اور ہماری مجموعی تنخواہ بچتیں صد روپیہ مالہانہ بنتی ہے۔اگر سب نمبر ایک ماہ کی نصف تنخواہ ادا کر دیں تو اس طرح بارہ صد پچاس روپے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔لہذا دوستوں نے میری تجویز پر عمل کیا اور اس طرح ہم نے بارہ صد پچاس روپیہ نیت برلن کے لئے روانہ کر دیا۔الحمد للہ۔خدا تعالی کے فضل و کرم سے وہاں تین مرتبہ رمضان شریف آیا اور باوجود سخت گرمی کے میرا ایک روزہ بھی وہاں نہیں چھوٹا۔ایک دن ہم جہاز میں کام بحری جہاز کی غرقابی اور مجرمانہ طور پر حفاظت کر رہے تھے کہ علم آیا کہ یہ جہاز مع کام کرنے والوں کے بغداد بھیج دیا جائے گا۔اس لئے سب کام کرنے والے اپنا سامان جہاز ہی میں لے آئیں۔کیونکہ اس وقت بڑی سخت جنگ ہو رہی تھی۔میرے دس ساتھیوں نے یہ سنتے ہی رونا شروع کر دیا۔مگر میں نے نفل پڑھنے شروع کر دیئے جہاز کی روانگی کادو مرتبہ وسل (Whistle) ہو چکا تھا۔جہاز کی روانگی میں صرف دو منٹ باقی تھے کہ جنرل صاحب کی طرف سے فون آیا کہ میرے معائنہ کے بغیر جہاز روانہ نہ کیا جائے۔چنانچہ جنرل صاحب وہاں پہنچے اور بعد معائنہ جہاز کی روانگی کا حکم دیا۔پھر جب اچانک ہم لوگوں پر نظر پڑی تو جہاز کے کپتان سے دریافت