میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 235
223 کیونکہ دو دن قبل ہی یہ اعلان ہوا تھا کہ گورداسپور پاکستان میں آیا ہے اور اب اچانک ایک متضاد خبر سن رہے تھے۔غرضیکہ بہت سوچ و بچار اور فکر میں دن گزرے۔شروع تمبر میں ہی میرا بڑا لڑکا فوجی ٹرک لیکر آگیا اور کہنے لگا کہ ضروری سامان اور مستورات کو میرے ہمراہ پاکستان بھیج دو۔میں نے کہا ہم نے تو حلف اٹھائے ہوئے ہیں اس لئے ہم تو نہیں جا سکتے۔غرضیکہ وہ اپنے بچوں اور دیگر لوگوں کو سوار کر کے پاکستان لے آیا اور ہم قادیان میں ہی رہے۔دن بدن خطرہ بڑھتا گیا قسم قسم کی مار دھاڑ کی خبریں آرہی تھیں۔ہمیں پورا اطمینان تھا کہ قادیان پر حملہ نہیں کر سکتے اور اگر انہوں نے ایسی غلطی کی تو خدا کے فضل سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔مگر وہاں خدا کی تقدیر ہی کچھ اور تھی۔۲ اکتوبر کو ساری رات فائر ہوتے رہے۔نصف رات کو محلہ کمہاراں پر حملہ ہو گیا۔قتل و غارت اور نوجوان لڑکیوں کا اغوا ہوا اور مکانات لوٹے گئے۔اگلے دن بروز جمعہ ۳ اکتوبر عید گاہ میں پٹیالہ ہندوستانی ملٹری نے۔۔۔کو اکٹھا کیا اور حملہ کرنے کی تاکید کی۔چونکہ آگے موت - ر دکھائی دیتی تھی۔اس لئے حملہ نہیں کرتے تھے اس لئے اب ملٹری خود ہی آگے ہوئی اور جو مسلمان نظر آتا اسے گولی کا نشانہ بنانے لگے۔چونکہ ہمارا گھر محلہ دار الرحمت میں حملہ آوروں کے بالکل سامنے تھا اس لئے میں اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر سارا نظارہ دیکھ رہا تھا۔ہمارے سامنے ہمارے محلہ میں صوفی غلام محمد صاحب کا مکان لوٹا گیا۔ہمیں ملٹری کا مقابلہ کرنے کا حکم نہ تھا صرف اپنی مستورات کو آرڈر دے دیا کہ اب حملہ آور ملٹری کے ہمراہ دیواروں کے پانی آگئے ہیں اس لئے عزت بچانا ضروری ہے جس حالت میں بھی ہیں فورا گھر سے نکل پڑیں۔چنانچہ سب بھرے بھرائے مکان مع سامان ، اناج و زیور چھوڑ کر بھوکے ہی انا للہ وانا اليه راجعون پڑھ کر گھر سے نکل پڑے اور بورڈنگ ہاؤس میں آکر مقید ہو گئے