میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 234
222 بیگ صاحب نائب ناظر بھی امرتسر ہی میں رکے ہوئے تھے۔وہ بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے۔وہاں ساٹھ کے قریب احمدی مرد اور بیس کے قریب احمدی عورتیں موجود تھیں۔مگر سب متفکر تھے۔امرتسر شہر میں کئی جگہ آگ لگی ہوئی چاروں طرف مار دیا جلا دیا کا شور بلند تھا۔مجھے ان سب نے امیر قافلہ مقرر کیا۔اسٹیشن پر ہر آن خطرہ تھا۔مسلمان ہندوؤں سے اور ہندو مسلمانوں سے ڈرتے تھے۔چاروں طرف ہر اس کا دور دورہ تھا۔میں نے سب سے پہلے آرڈر دیا کہ اسٹیشن پر گاڑیاں کھڑی ہیں۔تلاش کرو کہیں سے لکڑی کے ڈنڈے مل جائیں تو فورا لے آؤ۔خدا کی قدرت ایک ڈبے سے جلانے والے ڈنڈے مل گئے اور وہ سب میرے پاس لائے گئے۔میں نے تمام مردوں کا ایک وسیع دائرہ بنوا کر درمیان میں تمام عورتیں اور بچے بٹھا دیئے۔رات دس بجے گاڑی آئی سب کو سوار کر کے ہم بھی چڑھ گئے۔رات بارہ بجے بٹالہ پہنچے۔اتر کر قادیان فون کیا۔وہاں سے ایک ٹرک آگیا اس میں سب عورتیں بچے اور بوڑھے سوار کر دیئے۔بو جھل سامان بھی رکھ دیا اور ٹرک پہریداروں کی حفاظت میں روانہ کر دیا۔دوبارہ پلیٹ فارم پر آکر میں نے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ چاند کی روشنی میں اگر ہم قافلہ کی صورت میں ریل کی پنسری پر چلیں تو فجر کی اذان تک ہم قادیان پہنچ سکتے ہیں اور دن کی نسبت رات کو ہم بے فکر سفر کر سکتے ہیں۔سب نے مشورے پر اتفاق کیا۔ہمارے قافلے میں دو بندوقیں ایک پستول اور ایک تلوار بھی موجود تھی۔قادیان میں مینار پر فجر کی اذان ہو رہی تھی جب ہم بخیریت قادیان پہنچ رہے تھے۔ثم الحمد للہ قادیان پر احملہ قادیان میں ہی سارا رمضان گزارا۔آخری روزه افطار کرتے وقت یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ گورداسپور ہندوستان میں آگیا ہے۔سب لوگوں پر غم و فکر کی گھٹائیں چھائی تھیں