میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 236
324 اور جمعہ پڑھا۔وہاں بے شمار مرد اور عورتیں تھیں۔ہر کوئی اپنی اپنی روٹی کا بندوبست کر رہا تھا۔بڑی تکلیف اور فکر میں وقت گزرا کیونکہ کوئی شے میسر نہ تھی۔ایک ہفتہ بورڈنگ ہاؤس میں تکلیف دہ قیام کے بعد مستورات کو داغ ہجرت ٹرک مل گئے۔یہ دوسرے ہی دن بخریت لاہور پہنچ گئیں۔10 اکتوبر کو ہم نے انہیں وہاں سے روانہ کیا تھا اور ۶ اکتوبر کو ہم سے بھی بورڈنگ ہاؤس خالی کرالیا گیا۔ہم شہر کے احمد یہ مدرسہ میں چلے گئے وہاں مجھے آرڈر ملا کہ آپ فورا دفتر سے کچھ ریکارڈ لے کر کسی ٹرک کے ہمراہ لاہور پہنچیں۔بارہ کے قریب مبلغوں کی سروس لکھیں اور دو رجسٹر میرے سپرد کر دیئے گئے۔میرے پاس نہ تو کوئی کپڑا نہ بستر اور نہ کوئی کاغذ ہی تھا۔صرف ایک تولیہ تھا جس میں وہ سروس بکیں اور رجسٹر لپیٹ لئے اور بدقت ۱۷ اکتوبر کی صبح کو میں لائن کے قریب جہاں دو ٹرک کھڑے تھے۔ننگی تلواروں میں سے گزرتا ہوا وہاں پہنچا۔میں جس تک کے پاس جاؤں احمدی سواریاں کہہ دیں کہ جگہ نہیں ہے میں پریشان ہو کر الگ جا کر کھڑا ہو گیا تو میرے مولا کریم نے ایک خالی ٹرک بھیج دیا جس میں میں سوار ہو گیا اور جو بھی کوئی آیا اسے سوار کرتا چلا گیا۔حتی کہ اتنے آدمی اس میں سوار ہو گئے کہ تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔نہ ہی بیٹھا ہوا اٹھ سکتا تھا اور نہ کھڑا ہوا بیٹھ سکتا تھا۔ہم اس دن بوقت مغرب جو دھامل بلڈ نگ لاہور پہنچ گئے۔رات میں اپنی ہمشیرہ کے پاس ٹھہرا۔صبح کو اپنے بچوں وغیرہ کو رتن باغ سے تلاش کیا اور سب کو بخیریت پا کر خود دفتر حاضری دینے چلا گیا۔فسادات کے بعد جب میں نے دفتر حاضری دی تو ۲۴ اکتوبر کو نیا ہیڈ کواٹر جہلم انہوں نے کچھ خرچ بھی دیا اور ساتھ آرڈر دے دیا کہ آپ اجہلم چلے جائیں تاکہ کشمیر د پونچھ وغیرہ کے حالات معلوم ہوتے رہیں۔میں اپنے گھر والوں کو ساتھ لیکر جہلم پہنچ گیا ہم ایک ہفتہ تک جماعت جہلم کے ایک مکان میں