میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 231
219 سے انعام والے پچاس روپے بھی لے لئے ہیں یا نہیں۔کہنے لگے نہیں۔میں نے کہا یہ تو آپ نے میرا نقصان کر دیا ہے۔میں نے تو اس سے لیکر ہی چھوڑنا تھے خواہ مجھے آپ کے پاس دعوئی ہی کیوں نہ کرنا پڑتا آپ مہربانی فرما کر اس کا ایڈریس مجھے دے دیں۔میرے تو سینکڑوں گواہ ہیں۔خیر وہ بولے کہ اب آپ بھی مزید کوئی تقریر نہ کرنا وہ یہاں سے چلا گیا ہے۔میں نے کہا کہ ہم تو ہر گز یہ نہ چاہتے تھے کہ وہ یہاں سے چلا جائے بلکہ ہم نے تو اسے بتانا تھا کہ شیش محل میں بیٹھ کر قلعہ والوں پر فائر کرنا مناسب نہیں ہوتا۔دوسری بات یہ ہے کہ پندٹ صاحب نے تین دن لیکچر دے کر پبلک میں بدامنی پھیلائی ہے اور اگر زیادہ کی اجازت نہیں تو کم از کم تین لیکچر دینا تو ہمارا جائز حق ہے۔اور اسی طرح پبلک کی تسلی ہو سکتی ہے۔کوئی انصاف پسند آدمی ہمارے مطالبے کو ناجائز قرار نہیں دے سکتا اور اگر ہم نے اس آگ کو دیا رہنے دیا تو کسی وقت بھی اس کے شعلے بھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہے۔تحصیلدار صاحب بولے اچھا پھر کل والا لیکچر دے دیں اور آئندہ یہ سلسلہ بند کر دیں۔میں نے کہا بہت اچھا ایسا ہی کرنے کی کوشش کروں گا۔اس کے بعد تحصیلدار صاحب چلے گئے اور ہم نے بھی آرام کیا۔دوسرے دن خدا کے فضل سے اور زیادہ پبلک اکٹھی ہو میری تقریر شام تک جاری رہی جس میں آریہ سماج کا مسئلہ اواگون اور بیاہ کی تعلیم کہ کس قسم کی لڑکی سے شادی کرنا چاہئے اور کس قسم کی لڑکی سے شادی نہ کرنا چاہئے۔مگر افسوس کہ دیانندی تعلیم میں اس کا کوئی حل نہیں بتایا گیا کہ جن لڑکیوں سے شادی نہ کی جائے وہ بے چاری کیا کریں۔انہیں مار دیا جائے یا ملک بدر کر دیا جائے۔نہ تو جسم پر بال رکھنے والی سے شادی ہو سکتی ہے اور نہ اس سے جس کے جسم پر بالکل بال نہ ہوں۔نہ آنکھوں سے ہلی نہ خاوند سے طاقتور نہ خاوند سے کمزور نہ خاوند سے اونچی اور نہ نیچی علی ہذا القیاس۔اب بتاؤ کہ ایسی لڑکیاں کہاں جائیں۔