میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 232
220 اب ذرا خدا لگتی کہتا کہ کیا یہ تعلیم عالم گیر ہو سکتی ہے۔نہ کشمیری لڑکی اور نہ ولایت کی لڑکی سے شادی ہو سکتی ہے اور پھر نیوگ کے مسئلہ نے تو آریوں کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا اور تاریخ کے چکر نے بھی پبلک کو بہت خوش کیا جس کی روح سے سونا چرانے والا اگلے جنم میں سنار بنتا ہے وغیرہ وغیرہ۔منو شاستر کے حوالوں نے سب کو حیرت زدہ کر دیا اور بات بات پر نعرے بلند ہوتے رہے۔اسلام زندہ باد احمدی مبلغ زندہ باد ، آج پھر تقریر کرتے کرتے مغرب کی اذان ہو گئی لوگوں نے انظاری کا سامان منگوا لیا اور سب نے وہیں روزہ افطار کیا۔دعا پر جلسہ ختم ہوا۔میں نے لوگوں کو کہا کہ بیان کرنے کے لئے تو ابھی بہت کچھ باقی ہے مگر تحصیلدار صاحب کی خواہش ہے کہ اب اس سلسلہ کو بند کر دیا جائے اور دوسرے یہ مہینہ رمضان کا ہے اس لئے عبادت کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہئے اور اس قسم کے گندے اعتقاد کا ذکر بھی اچھا نہیں ہے۔اس لئے اب کوئی تقریر نہ ہوگی۔میں نے السلام علیکم کہا اور باقی سب لوگ بھی اس کے ساتھ ہی وعلیکم السلام کہہ کر چل دیئے اب اس شہر کے آریہ تو بہت شرمندہ ہو چکے تھے جبکہ یہاں کے سناتنی بہت خوش تھے۔فهرست دوره کرده مقامات میں نے ڈیوٹی کے دوران اس علاقہ کے مندرجہ ذیل مقامات کا دورہ کیا۔کنوئیاں ، شیندرہ ، پٹھاناں تیر ، سلواہ گر ساہی ، دھوڑیاں ، کالا بن ، کوٹلی، برگی بڑھانوں ، رہتال، راجوری ، ڈھرانہ، منکوٹ، ٹائیں، چوٹی، سونا گلی ، گوئی چر ناڑی بھابڑہ رہناہ، دورہ شیر خاں، گھنڈی سیرہ ، میر پور کرماڑہ پولس راولا کوٹ باغ سدھن گلی ، چکار لوڑی، علیہ آباد، سرائے علیا آباد شوپیاں ، پیر دی گلی ، سری نگر، ہیر پور اسلام آباد با نهال، رام بن بنوٹ اسر، کھلنی، ڈوڈہ، کشتواڑ ، مھلیں، بعد رواه چلنی ، اور ھم پور ریاسی ، جموں ، اکھنور، برنالہ بھمبر، آدھ ڈھک، جوگی i