میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 230
218 الروء ف الحكيم البصير السميع العلیم یہ سب آیات پڑھ کر ان کے تفصیل سے معانی سمجھائے۔چونکہ طبقہ جہلاء کا تھا اس لئے بڑی تفصیل سے معانی بنا کر ہر ایک کے ذہن نشین کر دیے اور آریہ سے کہا کہ وہ آریہ معنوں کے لحاظ سے یعنی " شریف آدمی" ہے تو انعام والے پچاس روپے یہاں میز پر لا کر رکھ دے تاکہ اس سے پبلک کو مٹھائی کھلائی جائے اور اگر وہ اناڑیہ " ہے تو خاموشی سے بیٹھا رہے گا۔اگر وہ اب بھی لفظ " اللہ " کو موہوم سمجھتا ہے تو اسے دیدوں کی قسم دیتا ہوں کہ وہ اب میدان میں نکل کر اعتراض کرے۔مگر وہ زندہ ہی درگور رہا اور چپکنے سے بیٹھا رہا۔میں نے اعتراضات کے ترتیب وار جواب دیئے اور قرض چکا دیا اور اعلان کر دیا کہ کل پھر اسی طرح جلسہ ہو گا اور بڑا دلچسپ ہو گا۔امید ہے کہ سب احباب کثرت سے آئیں گے۔میری تقریر کے اختتام پر اسلام زندہ باد احمدی مولوی زندہ باد اور نعرہ تکبیر کے نعرہ جات نوجوانوں نے کثرت سے لگائے اور بڑا ہجوم مجھے ڈیرے تک چھوڑنے آیا۔ڈیرہ پر پہنچ کر میں نے روزہ افطار کیا اور تھوڑا سا آرام کرنے کے بعد کھانا وغیرہ کھایا۔بعدہ نماز عشاء پڑھا کر نماز تراویح پڑھا رہا تھا تو تحصیل دار صاحب آگئے اور خاموشی سے میری چارپائی پر بیٹھے رہے۔جب ہم نے پوری نماز پڑھ لی تو بولے کہ مولوی صاحب آپ تو غضب کے آدمی ہیں۔پہلے روزہ رکھ کر ساڑھے تین گھنٹے تقریر کی جو صرف آپ کا ہی کام ہے اور اب پھر اتنی لمبی نماز پڑھنا۔میں تو حیران ہوں۔میرا تو خیال تھا کہ آپ سو گئے ہوں گے۔میں نے کہا ابھی تو درس ہونے والا ہے۔وہ کہنے لگے کہ میں آپ کی غلط فہمی دور کرنے آیا ہوں کہ میرے ایماء پر پنڈت نے ایسا لیکچر نہیں دیا اور نہ ہی میں اس قسم کے لیکچرز کو پسند کرتا ہوں۔یہ اس پنڈت کی ذاتی غلطی تھی۔اب میں نے اسے فورا شہر سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے۔میں نے جھٹ کہہ دیا کہ جناب نے میرے اس