میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 200
188 میں جواب دیتا کہ دعا کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔چنانچہ موت و حیات کی کشمکش میں ایک ماہ گذر گیا۔عاجز عید کی نماز پڑھانے کے بعد گھر پہنچا تو بے ہوشی سے ہوش میں آکر مجھے دیکھا اور چند باتیں کیں اس کے بعد اسی شام فوت ہو گئیں اور شریفاں بیگم بھی میو ہسپتال لاہور میں ہیں دن سے موت و حیات کی کشمکش میں تھیں اور ہر وقت سانس کے اٹک جانے کا دھڑکا لگا رہتا۔اور جب ڈاکٹروں کے مشورہ کے بعد ربوہ واپس لائے تو اس کے اگلے دن میری موجودگی میں ۱۵ / اکتوبر ۱۹۸۴ء کو وفات پائی اور نماز جنازہ حضرت صوفی غلام محمد صاحب ناظر اعلیٰ ثانی نے پڑھائی اور تینوں بیویاں ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔جلسہ سالانہ کے بعد میں جموں ریاست اکھنور چار کوٹ کشمیر میں ہیڈ کوارٹر اور هم پور کا دورہ کر کے ماہ مئی ۱۹۳۸ء میں واپس قادیان گیا اور گھر والوں کو اپنے ہمراہ لیکر براستہ گجرات ، بھمبر پہنچا۔وہاں سے چار کوٹ تک بہتر میل کا سفر گھوڑے پر ہی کیا۔وہاں پہنچ کر مکرم حیات علی خانصاحب کے مکان پر ہی ٹھہرا اور باقی حلقہ کا دورہ شروع کر دیا۔جولائی ۱۹۳۸ء کے آخری عشرہ راجوری سے سری نگر تک پیدل سفر میں خاکسار نے آٹھ آدمیوں پر مشتمل ایک وفد تشکیل دیا تا راجوری سے سری نگر تک کا پیدل سفر کر کے تبلیغ کا کام کیا جائے۔اس وفد میں مولوی عطا اللہ صاحب مولوی ثناء اللہ صاحب ماسٹر بشیر احمد صاحب، میاں محسن محمد صاحب اور میاں اللہ دتہ وغیرہ میرے ہمراہ تھے۔دوران سفر بڑے کٹھن راستے عبور کرنا پڑے دریائے پونچھ کی پہلی آبشار وہاں سے شروع ہوتی دیکھی۔گرمیوں میں وہاں سردی کا یہ عالم کہ دو گھنٹہ سے زیادہ وہاں رہنے کی قدرت گویا اجازت ہی نہ دیتی تھی۔سردی سے دانت بجنے لگے۔ہم نے