میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 199 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 199

187 اپنی بھانجی سے شادی کرنے کی پیشکش کر دی یہ پیشکش عقیدت کی بناء پر تھی کہ مجھے گھر کی وجہ سے پریشانی نہ ہو میں نے کہا کہ میری دو بیویاں پہلے موجود ہیں اور صاحب اولاد بھی ہیں اس لئے مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں کہ میں تیسری شادی کروں اور یہ کہ میری تنخواہ اتنی قلیل ہے کہ گزارہ بھی مشکل سے ہوتا ہے۔تیسری بیوی کا بار کس طرح اٹھا سکوں گا۔اس لئے آپ اس مسئلے کو رہنے دیں۔اس نے پوچھا تنخواہ کتنی ہے؟ میں نے بتایا پینتالیس روپے۔اس نے اطمینان کا اظہار کیا کہ یہ تو بہت بڑی تنخواہ ہے۔چنانچہ اس نے اصرار کیا اور مولوی کرم الہی صاحب سے بھی کہلوایا۔میں نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ تم اپنے بڑے بھائی کو بھیجو تو غور کریں گے۔مقصد یہ تھا کہ یہ پیش کش تو چھوٹے بھائی نے عقیدت کے جذبہ سے متاثر ہو کر کی ہے۔بڑا بھائی لازمی اختلاف کرے گا۔اس لئے بات مل جائے گی۔لیکن وہ اپنے بڑے بھائی اور مولوی عبد الحئی صاحب اور دو اور معززین کو ساتھ لے کر دوبارہ آیا اور انہوں نے بھی پیشکش کو منظور کرنے پر زور دیا۔چنانچہ ان سب کی متفقہ بات پر صاد کرنا پڑا اور اس کے بعد شادی ہو گئی۔اس طرح وہ رویا جو اس نے شادی سے قبل دیکھی تھی حقیقی تعبیر بن گئی۔محترمہ شریفاں کی ہمیشہ خواہش رہی کہ وہ میری زندگی میں اور میرے پاس وفات پائے۔ان کی یہ خواہش اپنی دو سوکنوں کی وفات کے پس منظر میں تھی۔میری دوسری بیوی سیدہ امتہ العلیم جو اولاً فوت ہو ئیں۔جب بیمار ہو ئیں تو دفتر کی طرف سے ٹیلی گرام ملنے پر عاجز چنیوٹ پہنچا تو اسی شام فوت ہو گئیں۔اور پہلی بیوی کریم بی بی جو ان کے بعد فوت ہو ئیں وہ رمضان المبارک کے مہینہ میں جب عاجز تراویح اور در بن القرآن کے لئے دورہ پر گیا۔اس کے فورا بعد بیمار ہو گئیں اور ٹیلی گرام پر ٹیلی گرام آئے کہ حالت نازک ہے سانس اٹک اٹک کر رہ جاتی ہے فورا پہنچیں۔لیکن