میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 201 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 201

189 وہاں سے بھاگنا شروع کیا۔تین میل تک بھاگنے کے بعد ہم قدرے گرم ہوئے۔وہاں پہاڑ کی چڑھائی بھی ختم ہو گئی تھی اور اترائی پھر سری نگر تک چلی گئی تھی جب ہم پہلے ہی دن بڑھانوں سے روانہ ہوئے تو چڑھائی شروع ہو گئی تھی اور ہم نے شام تک پچیس میل پیدل سفر طے کیا تھا اور چڑھائی میں آخری مکان تھا جہاں میرے ساتھیوں نے رات کاٹنے کی درخواست کی مگر گھر والوں نے صاف انکار کر دیا۔اب واپس ہی جا سکتے تھے کیونکہ آگے کوئی مکان نہیں تھا۔بڑی منت سماجت کی مگر سب بے سود۔واپس میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ اب کیا کریں؟ پھر میں خود اس گھر گیا اور گھر والوں سے السلام علیکم کہا۔وہ سب اندر چولہے کے آگے بیٹھے تھے۔مجھے دیکھ کر انہوں نے زمین پر ہی ایک ہوئی" (گرم چادر ) بچھا دی اور میں بھی چولہے کے آگے بیٹھ گیا۔میں نے ان سے خیریت دریافت کی۔انہوں نے کہا کہ ہماری بڑی لڑکی سردرد سے مری جارہی ہے۔میں نے کہا اسے یہاں بلاؤ۔وہ میرے پاس آبیٹھی میں نے اس کا ماتھا پکڑ کر دم کیا اور پوچھا بتاؤ بیٹی اب کیا حال ہے؟ وہ اپنی ماں سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ میرا سر اس قدر ہلکا ہو گیا ہے اور درد بھی کافور ہو گئی ہے گویا کہ درد تھی ہی نہیں۔حالانکہ وہ چار دن سے درد سے تڑپ رہی تھی۔اس چیز کا گھر والوں پر بڑا اثر ہوا۔انہوں نے میرے لئے رہائش کا انتظام کیا اور ساتھ ہی روٹی پکانا شروع کر دی۔میں نے ساتھیوں کو اندر بلا لیا۔ہم نے نماز مغرب اور عشاء باہر ہی جمع کرلی تھی۔کھانا کھا کر بڑے آرام سے رات بسر کی۔صبح پھر انہوں نے میرے لئے تازہ روٹی پکا دی۔ہم سب نے ناشتہ کے بعد دوبارہ سفر شروع کر دیا۔خدا کا شکر ہے کہ رات آرام سے کٹ گئی ورنہ ایسے خطرناک جنگل میں جہاں چیتے ریچھ ، بندر اور کئی قسم کے درندے ہیں رات کیسے گزرتی۔میرے ساتھیوں نے کافی روٹیاں پکوا کر ساتھ لے لی ہوئی تھیں اور مجھ سے کہنے لگے کہ مولوی صاحب