میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 198 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 198

186 ہیں) پونچھ میں مولوی کرم الہی صاحب کے پاس میری رہائش تھی شریفاں بیگم نے ایک رویا دیکھا کہ ان کے گھر ایک مولوی صاحب آئے ہیں اور ان کی پگڑی سبز رنگ کی ہے اور وہ انہیں ایک خوبصورت پھولوں کا ہار پہنا رہی ہیں۔اور دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہے۔ان کے روپا دیکھنے کے چند دن بعد ہی میں نے شینہ درہ کا دورہ کیا۔وہ اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی زمینوں کی نگرانی کے سلسلہ میں سکواہ سے شینہ درہ پہنچی تھیں۔ان کے والد چونکہ وفات پاچکے تھے۔اس لئے زمینوں کی نگرانی کا کام ان کی والدہ کے سپرد تھا۔چنانچہ میں نے تقریر کی تو دیگر عورتوں کے ساتھ وہ بھی مکان کی چھت پر بیٹھ کر تقریر سننے لگیں۔انہوں نے غور سے دیکھا تو اپنی والدہ کو بتایا کہ یہ تو وہی مولوی صاحب ہیں جن کو میں نے رویا میں ہار پہنایا تھا۔ان کی والدہ نے ان کے استاد مولوی عبد الحئی صاحب نمبردار سے کہا کہ میری بچی جوان ہو گئی ہے یہ مولوی صاحب قادیان سے آئے ہیں ان کو کہیں کہ قادیان میں کوئی رشتہ تلاش کریں۔اور شرط یہ ہے کہ لڑکا مولوی ہو۔ان کی والدہ نے اس رویا کا یہ مطلب لیا کہ ان کی بچی کا رشتہ میرے ذریعہ ہو گا نمبردار صاحب نے ذکر کیا۔تو میں نے کہا کہ قادیان کا مولوی تو پڑھا لکھا ہو گا۔اور یہ لڑکی ان پڑھ ہے اس سے اتنی دور آکر کون رشتہ کرے گا۔اس لئے بہتر ہے کہیں اور رشتہ تلاش کریں۔پونچھ میں قیام کے دوران میری بیوی جو شریک سفر تھیں کے دونوں ہاتھوں کی کلائیوں میں درد شروع ہو گیا تھا جس وجہ سے کھانا پکانے اور دیگر گھر کے کام کاج کرنے میں دشواری تھی۔اس غرض کے لئے ایک ملازمہ رکھ لی تھی۔اس کے جوان ہونے پر اس کی شادی ہو گئی۔تو ایک بار پھر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔اس دوران ان کی والدہ کے چار بھائیوں میں سے چھوٹا بھائی آیا۔اس نے دیکھا اور سنا تو اس نے مجھے