میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 188
176 سب بچوں کو بلا لیا۔دو لڑکیاں دسویں میں اور چھوٹا لڑکا چھٹی میں پڑھتا تھا۔بڑی لڑکی اور ان کی والدہ نے اندر ہی سے السلام علیکم کہہ دیا کیونکہ پہلی ملاقات تھی اور فریقین کو بات کرنے میں حجاب تھا۔پادری صاحب سوال کرنے لگے کہ مولوی صاحب! میاں بیوی کا ایک ہی مذہب ہوتا ہے یا الگ الگ؟ میں نے کہا آپ تو پادری ہیں اور ساتھ ہی حافظ بھی۔یہ دونوں مثالیں قرآن اور توریت سے ملتی نہیں جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت لوط کے مذہب اپنی اپنی بیویوں سے مختلف تھے۔حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت محمد مصطفے ﷺ اور ان کی بیویوں کے مذہب ایک ہی تھے۔پادری کی بیوی صاحبہ بولیں۔جناب مولوی صاحب جب حافظ صاحب کو قرآن شریف بھولا ہے اس وقت سے توریت اور انجیل بھی انہیں نہیں آتی۔میں تو اپنے اسلام پر قائم ہوں۔موقع ملے تو نماز بھی پڑھ لیتی ہوں اور روزے بھی رکھ لیتی ہوں۔پادری صاحب اپنی بیوی سے کہنے لگے کہ میں نے کبھی اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ تم نیک عمل نہ کرو۔آپ بھی پردہ کرتی ہیں اور لڑکی بھی۔آپ برقعہ پہنتی ہیں کئی دفعہ بڑے پادری صاحب نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ وہ گر جا نہیں آتیں۔میں نے ان سے کہہ دیا کہ میں انہیں ابھی سمجھا رہا ہوں جب سمجھ جائیں گی تو خود بخود آجایا کریں گی میں انہیں مجبور نہیں کر سکتا۔میں نے کہا حافظ صاحب آپ کی اہلیہ عقائد کے لحاظ سے میری بہن ٹھہریں اور آپ کی بیٹی میری بھانجی۔اب صرف آپ ہی سے میرا اختلاف رہ گیا ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم دوستانہ رنگ میں اس اختلاف کو دور کرلیں۔کہنے لگے بہت بہتر مگر یہ سب باتیں اسی جگہ ہونگی۔میں نے کہا کہ پھر یہ کیسے معلوم ہو گا کہ فریقین میں سے کس کے دلائل زیادہ مضبوط اور قابل قبول ہیں۔پادری صاحب کی اہلیہ صاحبہ بولیں کہ مولوی صاحب ! حافظ صاحب میرے خاوند ہیں اور آپ میرے دینی بھائی ہیں بلکہ