میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 189 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 189

177 میں نے آپ کو حقیقی بھائی سمجھ لیا ہے۔اگر آپ اعتبار کریں تو خدا تعالٰی نے میری دعا سن لی ہے اور میری خواہش کے مطابق آپ کو یہاں بھیجا ہے۔میرے ساتھ حافظ صاحب کی بہت عرصہ باتیں ہوتی رہی ہیں مگر میری کم علمی کی وجہ سے ان کے سامنے میری کچھ پیش نہ جاتی تھی۔میں آپ دونوں کی باتیں سن کر خدا لگتی بات کر دیا کروں گی چاہے کچھ ہو جائے چونکہ یہ ایک پرائیویٹ معاملہ تھا اس لئے میں نے اور حافظ صاحب نے رضا مندی کا اظہار کر دیا۔میں نے حافظ صاحب سے پوچھا کہ جب یہ بھنگی (عیسائی) عورتیں اور مرد آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ ان کے خوردو نوش کا کیا اور کہاں انتظام کرتے ہیں۔حافظ صاحب بولے کہ ان کے کھانے پینے کا انتظام چوہر محلہ میں ہی ہوتا ہے۔میرے گھر میں تو آہی نہیں سکتے۔میں نے کہا آخر آپ کی دعوت وغیرہ تو کرتے ہی ہوں گے حافظ صاحب کہنے لگے ہر گز نہیں۔میرے ان کے ساتھ اتنے تعلقات نہیں۔میں صرف اتوار کے روز گر جا جا کر دعا کروا آیا کرتا ہوں اور بس۔انہیں پڑھانے والے میرے ماتحت ہیں۔میرا تعلق براہ راست امریکہ مشن سے ہے۔اور ان سب کی تنخواہیں میرے ذریعے آتی ہیں۔بتانے لگے کہ میری تنخواہ دو صد روپیہ ہے۔میری اہلیہ کا پچیس روپے الاؤنس ہے۔میری لڑکی کا وظیفہ پچیس روپے ، لڑکے کا پندرہ روپے اور چھوٹی لڑکی اور لڑکے کے لئے ہیں روپے کی منظوری آگئی ہے۔پچیس روپے کرایہ مکان اور تمہیں روپے ماہوار مهمان نوازی کے بھی ہیں۔کل تین صد ساٹھ روپے ماہوار مجھے مل جاتے ہیں۔مشن کا مہمان کبھی آیا ہی نہیں اور مکان کا کرایہ صرف دس روپے ادا کرتا ہوں۔باقی سب بچپت ہی بچت ہے۔اب مولوی صاحب آپ یہ بتائیں کہ آپ کی کیا آمدنی ہے۔میں نے کہا میری آمد مسیح جتنی ہے۔بہن صاحبہ ہنس پڑیں اور حافظ صاحب سے کہنے لگیں آپ خود ہی گن لیں۔میں نے کہا کہ آپ بادشاہوں کے