میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 187 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 187

175 راستہ میں مولوی عبد الکریم صاحب کہنے لگے کہ قادیانی بہت خوش اخلاق مبلغ ہوتے ہیں۔میں اگر یہ پاتھی والی مثال کسی اور مولوی کے سامنے دے دیتا تو وہ ضرور کفر کا فتویٰ لگا دیتا۔مگر احمدی مولوی صاحب نے ہمیں ڈھیٹ تو ضرور کر دیا ہے لیکن کوئی فتوئی نہیں دیا۔اب اس آیت پر اور بنی آدم والی آیت پر غور کرنا بڑا ضروری ہے۔آخر خدا کے فضل سے یہ تینوں دوست احمدی ہو گئے تھے۔ایک دن میں سوجان پور کے حافظ پادری قائم الدین کا قبول اسلام مولوی عبد الکریم صاحب کی دوکان پر بیٹھا تھا کہ ایک پادری سو جان پور سے آگئے۔ان کا نام پادری حافظ قائم الدین تھا۔ان کا امریکن مشن سے براہ راست تعلق تھا۔مولوی صاحب نے میرا ان کے ساتھ تعارف کروایا۔میں ان کے متعلق یہ سن کر کہ حافظ قرآن بھی، مولوی بھی اور پادری بھی بڑا حیران ہوا اور انہیں اپنے گھر لے آیا۔چائے وغیرہ پلائی۔پھر ان سے حالات وغیرہ دریافت کئے کہ کس وجہ سے پادر ہی ہوئے ہیں۔کہنے لگے کہ مولوی صاحب آپ کے اچھے اخلاق کا میرے دل پر بہت اثر ہوا ہے اور قسم کھا کر کہنے لگے کہ کل اتوار ہے (چھٹی کا دن) آپ نو بجے سو جان پور تشریف لا ئیں۔میں آپ کو گھر پر ملوں گا اور علیحدگی میں باتیں ہوں گی۔میں رضا مند ہو گیا اور پادری صاحب چلے گئے۔میں اپنے وعدہ کے مطابق صبح اٹھا دعا کی اور آٹھ آنے کے پھل لے کر سو جان پور پہنچا۔پادری صاحب بازار میں ہی گوشت والے کی دوکان پر مل گئے۔انہیں سارے بازار والے جانتے تھے اس لئے یہاں تو مجھ سے نہ طے البتہ گھر لے گئے۔گوشت وغیرہ رکھ کر بیٹھک کا دروازہ کھولا اور السلام علیکم کہہ کر مجھ سے بغل گیر ہو گئے۔میں نے ان سے کہا کہ میں بھی پادری صاحب سمجھتا تھا که بازار میں آپ مجھ سے نہیں مل سکتے یعنی اس طرح پاک ہے۔انہوں نے اپنے