میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 180
168 جاتا ہو گا مگر ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔باقی سب نبی بھی مردے ہی زندہ کرنے کے لئے آتے رہے ہیں۔اسی طرح مسیح نے بھی مردے زندہ کئے۔اصل بات یہ ہے کہ جو خدا تعالی کی شناخت نہیں کر سکتے وہ مذہبی اصطلاح میں سب مردہ ہوتے ہیں اور پھر نبی سے تازہ نشان دیکھ کر وہ زندہ ہو جاتے ہیں یعنی خدا کی شناخت کر لیتے ہیں۔بابو عبد الحکیم صاحب بولے کہ ہمارے ساتھ حیات و ممات مسیح پر قرآن شریف کی روشنی میں بحث کر لیں۔ہم نے منظور کر کے شرائط و تاریخ کا تعین کر لیا۔رات کو وہ مولوی ثناء اللہ کو لینے امر تسر چلے گئے۔ہمارے دوستوں نے حضور کو تار دے دی که مولوی ثناء اللہ آرہے ہیں اور ان سے مناظرہ ہے اس لئے کوئی چوٹی کا مبلغ بھجوا دیا جائے۔حضور نے جواب دیا کہ آپ کو مبلغ دیا ہوا ہے وہی کافی ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب کو جب امرتسر جا کر مناظرہ کی شرائط دکھائی گئیں تو برہم ہو کر ان سے کہنے لگے کہ کسی بھڑوے" نے یہ شرائط طے کی ہیں؟ اب وہ خود ہی مناظرہ کرے میں نہیں جا سکتا۔بڑی منت کے بعد مولوی محمد یوسف دینا نگری کو بھیجا۔وہ پہلے سے ہی میرے واقف تھے۔مقابلہ کے لئے دونوں سٹیج بنانا غیر احمدیوں کا کام تھا۔انہوں نے اپنا سٹیج تو بڑا شاندار بنایا اور ہمارا ایک نالی کے اوپر تخت پوش رکھ کر دو کرسیاں ایک میز اور ایک مردہ سی لائین رکھی ہوئی تھی۔میں نے نوجوانوں سے کہا کہ روٹی کا فکر نہ کرد مناظرہ کے بعد کھالیں گے اور اپنی کتابیں اٹھا کر عمدہ سٹیج پر رکھ دو۔ایسا کرنے پر محافظ بولا کہ آپ کا سنج دوسرا ہے۔میں نے کہا کوئی حرج نہیں جہاں بیٹھ گئے ہیں ٹھیک ہے۔یہ دونوں سٹیج آپ نے ہی بنائے ہیں۔چنانچہ ہم نے سٹیج پر پوری طرح قبضہ کر لیا۔جب ان کے مولوی صاحب آئے تو سٹیج دیکھ کر ان پر بہت خفا ہوئے کہ امیہ نالی پر سٹیج کیوں بنایا ہے دیکھو ان کا سٹیج کتنا اچھا ہے۔وہ بولے کہ دونوں ہم نے ہی بنائے ہیں۔وہ آپ کے لئے بنایا تھا مگر انہوں نے پہلے اگر وہ