میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 179 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 179

167 کرنے پر تمام پبلک خوش ہو گئی اور اہل تشیع کا رنگ سیاہ ہو گیا انکی طرف سے حافظ غضبناک ہو کر بولا کہ میں کئی علوم کا ماہر ہوں اور علم نجوم سے پوری طرح واقف ہوں اس لئے آپ میرے دلائل کی تاب نہ لا سکیں گے۔غرضیکہ اسی طرح کی گئیں ہانک کر بیٹھ گیا۔میں نے کہا حافظ صاحب جس شخص کو اس وقت اتنا علم نہ ہو کہ سورج کس جگہ پر ہے وہ عطارد، زحل اور مشتری سیاروں کے بارے میں کیا جان سکتا ہے اور علم نجوم کا ماہر کیسے ہو سکتا ہے۔اس پر تمام لوگ ہنس پڑے اور شیعوں نے کھڑے ہو کر اقرار کیا کہ ہمارے مولوی صاحب وقت پر نہیں پہنچ سکے تو ہم نے اس جاہل اندھے کو اس کی خواہش پر کھڑا کر دیا تھا۔ہم معافی چاہتے ہیں۔اب دوبارہ جب ہم مناظرہ کروانا چاہیں گے تو اپنے خرچ پر آپ کو بھی بلوا ئیں گے۔ہم نے اعلان کر دیا کہ دوپہر کے بعد مولوی عمر دین صاحب کی ختم نبوت کے موضوع پر تقریر ہو گی دوست مطلع رہیں۔وقت مقررہ پر مولوی صاحب کی بہت عمدہ تقریر ہوئی اور بہت مقبول ہوئی کہ نئی شریعت لانے والے نبی بند ہیں اور اب رسول پاک کی شریعت پر چلانے والے نبی آتے رہیں گے۔مسلمانوں نے دو دن ہمیں اپنے پاس رکھا اور قسم قسم کے شیعوں کے اعتراضات کے جواب پوچھتے رہے۔بعدہ مولوی صاحب دہلی کو اور میں انبالہ کو واپس روانہ ہو گیا۔تیسرے دن انبالہ کی مسجد میں ہم نے جلسہ کرنا شروع انبالہ شہر میں مناظرہ کیا۔بابو عبدالحکیم صاحب جو سید غلام بھیک صاحب کی انجمن تبلیغ کا ہیڈ کلرک تھا۔اس نے میری تقریر پر ایک عیسائی سے اعتراض کروایا که مسیح موسوی تو مردے زندہ کیا کرتا تھا۔اگر مرزا صاحب مسیح ہیں تو انہوں نے کونسے مردے زندہ کئے ہیں۔میں نے کہا کہ اگر مسیح جسمانی مردے زندہ کر سکتا تھا تو اس کی تو ایک فوج بن جانی چاہئے تھی کیونکہ جسے وہ زندہ کرتا تھا وہ تو اس کا مرید بن