میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 178 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 178

166 جب کھانے پینے کا وقت آتا ہے تو بن بلائے حاضر ہو جاتے ہیں۔راستہ میں مولوی عمر الدین صاحب مجھ سے ذکر کرنے لگے کہ آجکل میری طبیعت گانے اور نعتیں سننے کو بہت پسند کرتی ہے۔خدا جانے کیا وجہ ہے کہ طبیعت نئی نئی سکیمیں بنارہی ہے۔رات گزری، اگلے دن میدان مناظرہ میں پہنچے۔وہاں ایک نابینا حافظ صاحب راض رفع کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں ثابت کروں گا کہ حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان مینوں ہی ایماندار نہ تھے۔میں نے اپنی ٹرن میں بیان کیا کہ ایک تو ہمارے حضرت علی ہیں جو چوتھے خلیفہ ہیں۔وہ حضور کے داماد ، بڑے نیک ، شیر خدا اور غیور تھے اور خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا تھا اور وہ خدا کے دین کے مدد گار تھے۔انہوں نے نہ تو کبھی عمدہ کے حاصل کرنے کا لالچ کیا اور نہ ہی کبھی ناکام ہوئے۔میرے جتنے بھی اعتراض ہوں گے وہ مذکورہ علی پر نہیں ہوں گے بلکہ شیعوں کے ناکام و نامراد رہنے والے علی پر ہوں گے۔ہم مسلمان اس علی کے واقف نہیں ہیں جو قوم کا دھتکارا ہوا تھا۔وہ بقول شیعہ صاحبان پہلا خلیفہ بننا چاہتا تھا جس میں ناکامی ہوئی پھر دوسرے اور تیسرے خلیفہ کی جگہ لینے کے لئے بھی ناکام کوششیں کیں مگر شرمندہ نہ ہوا۔یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وہ مومن بھی نہ تھا کیونکہ قرآن کریم ان کو مومن قرار دیتا ہے جو مقابلہ پر کھڑے ہو کر کامیاب ہوں۔فرماتا ہے۔انا لننصر رسلنا والذين آمنوا في الحیوۃ الدنیا کہ مخالف جب ہمارے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کے مقابل پر آتے ہیں تو نا کام ہوتے ہیں اور وہ یوم يقوم الاشہاد سے ثابت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں بڑے بڑے درجے حاصل کرتے ہیں۔اگر اس آیت پر اچھی طرح غور کیا جائے تو شیعوں کا علی دونوں جہانوں میں نامراد رہا اور کار نے حضرت علی کرم اللہ وجہ دونوں جہانوں میں کامیاب رہے کیونکہ وہ متوکل تھے اور جب ان کی باری آئی فورا خلافت سنبھال لی۔میرے اس طریق کے اختیار