میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 153 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 153

141 پار کیا۔جب گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گھر خالی پڑا ہے۔بڑا تعجب ہوا۔بابو عبد الکریم صاحب تار بابو ملے۔انہوں نے بتایا کہ آپ کی اہلیہ کو سامان سمیت میں اپنے گھر لے آیا تھا کیونکہ جس دن آپ دورہ پر گئے تھے اسی دن آپ کے گھر والے (اہلیہ) جب منشی دانشمند صاحب کے گھر والوں کو سبق پڑھانے گئے تو فلاں شیعہ عورت جو مشتبہ اور سخت لڑاکا ہے صحن سے سارا ایندھن اٹھا کر اپنے گھر لے گئی۔شکر ہے کہ تالہ توڑ کر کہیں سامان اور کتابیں نہیں لے گئی اس لئے بہن صاحبہ کو سامان سمیت میں اپنے مکان میں لے آیا تھا میں ایسی ڈاکو عورت پر بڑا حیران ہوا۔پھر ایک ماہ اس مکان میں رہنے کے بعد کچھ عرصہ بھائی غلام حسین صاحب کے مکان میں رہے۔انہی ایام میں موضع کرماڑہ سے احمد شیر خاں کی بیوی کا قبول احمدیت ہمارے ایک احمدی بھائی احمد شیر خاں صاحب بوقت عصر تشریف لائے۔ساتھ ایک گھوڑا زائد بھی لائے اور کہنے لگے کہ آپ میاں بیوی دونوں کو میں لینے آیا ہوں کیونکہ میرے گھر کے ارد گرد سب لوگ بڑی مخالفت کرتے ہیں۔آپ انہیں سمجھا ئیں بجھائیں اور آپ کی اہلیہ میری بیوی کو سمجھائے کیونکہ وہ بھی احمدیت کی بڑی مخالفت کرتی ہے۔میں نے کہا کہ اس وقت تو ہنڈیا چولہے پر پک رہی ہے اور اب ہم آٹا گوندھنے لگے ہیں۔تھوڑی دیر ٹھر جائیے۔کہنے لگے نہیں ابھی چلنا ہو گا اور میں آپ کو لے کر جاؤنگا۔میں نے کہا تو پھر آپ تشریف رکھیں کھانا کھا کر ہم تینوں ہی چل پڑے۔وہاں سے اس کا گاؤں تین میل کے فاصلہ پر تھا۔مغرب کے معا بعد ہم وہاں پہنچے۔گاؤں کی عورتیں پنجابی برقع پوش کو دیکھنے کے لئے اکٹھی ہو گئیں۔کھانا اور نماز وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد تبلیغی کام شروع کر دیا۔رات گئے تک کام جاری رہا۔فجر کی نماز کے بعد تین آدمیوں اور دو عورتوں نے بیعت فارم پر کر دیے۔مکرم احمد شیر خانصاحب