میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 152
140 محمد صاحب تینوں اس پر سوار ہو کر پار چلے گئے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ پونچھ شہر میں شیعوں کا جلسہ ہے اور ان کا مولوی لاہور سے آنے والا تھا انہیں سبز رنگ کا صافہ دیکھ کر یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ ہمارا ہی مولوی ہے۔انہوں نے کوشش کر کے راجہ سے ہاتھی منگوایا تھا جو ہمارے کام آیا۔رات کو منشی دانشمند صاحب کے مکان پر ٹھہرے اور دوسرے دن ہم ہاتھی لے کر گئے اور اپنا سامان وغیرہ بھی لے کر آگئے اور گھوڑے واپس کر دیئے۔الحمد للہ کہ خدا تعالٰی نے اپنی نصرت کے ساتھ بخیریت پونچھ پہنچا دیا۔چونکہ ہم رات کے وقت پونچھ شہر میں ایک شیعہ عورت کی زیادتی پونچھ پہنچے تھے اس لئے اگلے دن فجر کی نماز پر احباب جماعت سے ملاقات ہوئی اور انہیں اپنی آمد کی غرض و غایت سے آگاہ کیا تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی سعی فرمائیں اور میری اہلیہ سے بچوں کو قرآن کریم ، نماز اور اردو کی تعلیم دلوائیں اور بڑی مستورات اپنی نماز بست کروا ئیں۔وہاں شیعوں کے محلہ میں ایک مکان کرائے پر لیا اور وہیں رہنا شروع کر دیا۔وہاں گھر کے اخراجات خود ہی برداشت کرتا تھا اس لئے گھر سے تسلی تھی۔میں نے ارادہ کیا کہ اب قریب کے دیہات کا دورہ کر کے حالات معلوم کرنے چاہئیں۔دورہ پر جانے سے پہلے گھر میں ضروری اشیاء اکٹھی خرید کر رکھیں اور گٹھے ایندھن کے گھر کے صحن میں رکھوا دیئے۔دورہ پر سب سے پہلے منگتاڑ کی طرف گیا۔راستہ میں دریا عبور کرتے وقت کافی مشکل پیش آئی اور بمشکل کنارہ پر پہنچا۔رات اسی گاؤں میں رہا۔وہاں دو تین آدمیوں سے ملاقات ہوئی۔دوسرے دن میں کنویاں پہنچا وہاں بھی ایک رات رہا۔بعض دوستوں سے تبادلہ خیالات بھی ہوا۔تیسرے دن واپس گھر لوٹ آیا دریا میں خوب پانی بھرا ہوا تھا۔ہاتھی کے ذریعے دریا