میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 154 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 154

142 اپنی بیوی کے بیعت کر لینے پر بہت ہی خوش ہوئے اور اس سے کہنے لگے کہ تم نے میرے کہنے پر تو بیعت نہ کی اور اب کرلی ہے وہ کہنے لگی تم نے کب اس طرح سمجھایا۔تیسرے دن وہ ہمیں خود گھر چھوڑ آیا۔پہاڑی دیہات کا تحفہ واپس پونچھ پہنچ جانے کے بعد اب میں نے ارادہ کیا کہ شیندره" وغیرہ کا دورہ کروں۔وہاں مولوی کرم دین صاحب بھی خوش قسمتی سے میرے پاس آگئے۔میں ان کے ہمراہ ہی چل پڑا۔سفر ایسا خطرناک تھا کہ ہر وقت موت ہی سامنے نظر آتی تھی۔بالآخر بخیریت وہاں پہنچے۔وہاں چند احمدی احباب تھے۔ان سے ملاقات ہوئی۔اس سے قبل مستورات کی کوئی بیعت نہ تھی۔ان کے لئے بیعت فارم وغیرہ پر کئے۔وہاں چند ایک ہی احباب کچھ سمجھ دار تھے۔مولوی کرم دین صاحب ، میاں بہادر صاحب، میاں ہاشم صاحب اور میاں ناصر صاحب میں کچھ روحانی بیداری پیدا کی۔بعض دوسرے لوگ بھی احمدیت میں داخل ہوئے۔تین دن یہاں قیام کیا۔پھر پٹھاناں تیر " جا کر کچھ تبلیغی کام کیا۔بعده "سلواہ گیا۔وہاں مولوی عبدالحئی صاحب جو کسی وقت حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے پاس قادیان پڑھا کرتے تھے کو پہچان کر ان سے ملا۔وہ بہت خوش ہوئے۔بہت اچھے عالم اور حکیم، دوکاندار ، زمیندار اور مالدار تھے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت نیک بھی تھے۔علاقہ میں ان کا بہت اچھا اثر تھا۔میرے جانے پر انہوں نے وہاں جلسہ بھی کروایا اور تبلیغ بھی خوب زور و شور سے کروائی۔پچیس یوم کے دورہ میں مندرجہ ذیل جماعتیں زیر تبلیغ آئیں۔شیندرہ ، پٹھاناں تیر، سلواہ گر ساہی دھوڑیاں، لوہار کہ چار کوٹ کوٹلی کالا بن، دہری ریوٹ ، ڈھرانہ سیداہ، ٹائیں منکوٹ اس مصروف پچیس روزہ دورے میں صرف پانچ راتیں سونے کا موقع ملا کیونکہ پہاڑی بھائیوں کے گھروں میں پسو کھٹمل بکثرت ہوتے ہیں ان کے علاوہ ایک