میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 149 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 149

137 ہونے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ دو سال قبل ریاست میں بڑی بغاوت ہو گئی تھی جس کے مقدمات ابھی تک چل رہے ہیں۔میں نے کہا کہ میں مولوی نہیں ہوں میں تو مبلغ ہوں۔کسٹم افسر کہنے لگا کہ مبلغ کے کہتے ہیں میں نے کہا جو امن کی تعلیم دے اور بغاوت سے روکے۔لوگوں کو نیک بننے کی تحریک کرے اور حکومت کی قوانین کی پابندی کروائے۔بعدہ کہنے لگے کہ آپ یہاں تھوڑی دیر انتظار کریں۔ہم جموں تار دے رہے ہیں۔جواب آنے پر آپ کو بھی مطلع کر دیا جائے گا۔میں نے کیا بہت اچھا ساتھ میری اہلیہ بھی ہے۔اس لئے ہمارے لئے کسی پردہ دار مکان اور کھانے کا انتظام آپ کر دیں کیونکہ نامعلوم جواب کب آئے۔افسر کہنے لگا کہ ہمارے پاس ایسا کوئی فنڈ نہیں ہے۔میں نے کہا جناب آپ بھی شہری ہیں اور شریف آدمی ہیں ذرا سوچیں کہ ہم بھی شہری ہیں۔ہمیں نہ تو آپ آگے کی طرف ہی جانے دیتے ہیں اور نہ پیچھے واپس ہی جانے دیتے ہیں۔اگر تو آپ ہمیں اپنی حراست میں رکھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ سامان کرنا تو آپ کے لئے ضروری ہو جاتا ہے وہ اندر گیا اور اپنے ساتھی سے مشورہ کر کے واپس آکر کہنے لگا کہ میرے ساتھ آپ کو میر پور تھانہ کی معرفت واپس کیا جائے گا۔میں نے کہا چلو۔وہ تانگہ لے آئے اور اسب اس پر سوار ہو کر چل پڑے۔میں نے راستہ میں افسر صاحب سے کہا کہ تانگے کا کرایہ آپ دیں گے۔کہنے لگا یہ آپ کو دینا پڑے گا۔یہ کہہ کر وہ اتر گیا کہ اچھا آپ چلیں میں کسی دوسرے مانگہ پر آجاؤں گا۔میں نے تانگے والے سے کہا کہ میں مبلغ ہوں اور یہ کٹم والے شرارت کرتے ہیں۔تم فوراً جتنی جلدی ممکن ہو نہیں میرپور پہنچاؤ۔سالم کرائے کے ساتھ آٹھ آنے انعام کا وعدہ بھی کر لیا۔وہاں ہمارے فلاں پنجابی وکیل ہیں ان کے مکان پر ہمیں چھوڑ آؤ۔انعام سن کر اس نے کسی دوسرے تانگے والے کو آگے نہ بڑھنے دیا۔وہاں مرکز کی طرف سے احمدی