میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 148
136 طرف سے نور حسین صاحب گرجا گھی اور احمد دین صاحب گھڑی آگئے۔ہماری طرف سے خادم صاحب گجراتی اور ایک مولوی صاحب اور تھے ( غالباً غلام احمد صاحب بدو ملی تھے یا کوئی اور یاد نہیں رہا) غرضیکہ بہت زور شور سے مناظرہ ہوا لیکن لوگوں نے بہت کم فائدہ اٹھایا۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد چوہدری محمد عبد اللہ خان صاحب برادر چوہدری ظفر اللہ خانصاحب میونسپل کمشنر بن کر رو پر میں آگئے۔چنانچہ جن لوگوں نے مناظرہ سے فائدہ اٹھایا ہوا تھا ان میں جرات پیدا ہو گئی۔سید سردار علی شاہ صاحب ایڈووکیٹ و دیگر پندرہ سولہ احباب احمدیت میں داخل ہو گئے۔ایک دن ایک صاحب ہمارے ہاں آئے اور کہنے لگے کہ ہم اس وقت اس شخص کو مہدی مانیں گے جس کا نام محمد ہو گا قریشی خاندان سے ہو اور اس کے باپ کا نام عبداللہ ہو اور ماں کا نام آمنہ ہو تو تب ہم مانیں گے تو چوہدری محمد عبداللہ صاحب کہنے لگے کہ بہت اچھا تھوڑا سا اور صبر کر لو میرا بیٹا جوان ہو جائے تو آپ لوگوں کے لئے وہ دعوی کر لے کیونکہ اس کا نام محمد ہے باپ کا نام عبد اللہ اور ماں کا نام بھی آمنہ ہے۔آپ فکر مند نہ ہوں یہ سن کر وہ بہت شرمندہ ہوئے۔کافی عرصہ تک میں نے اس علاقہ میں کام کیا۔ہر گاؤں میں تقاریر کرتا رہا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی تعداد میں لوگ احمدیت میں بھی داخل ہوئے۔مجھے قادیان سے حکم ملا کہ میں واپس مرکز پہنچ جاؤں۔وادی کشمیر کی طرف میں اس علاقہ میں دو سال تبلیغی کام کر کے ۱۹۳۳ء میں واپس قادیان پہنچ گیا۔دفتر سے سید ولی اللہ شاہ صاحب نے یہ حکم دیا کہ آپ مع اپنی اہلیہ ثانی پونچھ چلے جائیں اور تبلیغ کریں۔آخر جولائی ۱۹۳۳ء کو پونچھ کی طرف روانہ ہوا۔جہلم میں ہی بارش ہو گئی تھی۔بڑی مشکل سے دریا عبور کیا کسٹم گھٹافیاں پر ہمیں یہ کہتے ہوئے روک لیا کہ کسی پنجابی مولوی کو ریاست میں داخل