میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 150
138 متعین تھے۔انہیں میں نے سب ماجرا کہہ سنایا۔کہنے لگے کہ آپ مشکل مرحلہ تو طے کر آئے ہیں اب وہ آپ کو واپس نہیں لے جاسکتے۔اگلے دن دو گھوڑے دشوار گزار راستے۔۔قدم قدم پر نصرت ایزدی کرایہ پر لے کر وہاں سے چل پڑے۔ایک گھوڑے پر سامان رکھا اور دوسرے گھوڑے پر گھر والوں کو بٹھایا اور خود ساتھ پیدل چل پڑا نہیں میل کا پیدل سفر کیا۔راستہ میں بارش ہو جانے کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھانا پڑی۔رات راجدھانی گاؤں میں بسر کی اور صبح بہت چوڑا نالہ ہمیں عبور کرنا تھا۔اسے عبور کرتے وقت کنارہ کے مکینوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ اوپر کی سمت سے بہت زیادہ پانی آ رہا ہے یہ پرویسی مسافر اس میں بہہ جائیں گے۔ہم نے گھوڑوں کی رفتار کو تیز کرنا چاہا تو سلمان والا گھوڑا پانی میں بیٹھ گیا۔اوپر سے بڑی تیزی کے ساتھ بہت بھاری پانی کا ریلا آرہا تھا۔میں نے فوراً گھوڑے کو کھڑا کیا اور ابھی کنارہ پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ پانی کا ریلا بڑے بھاری پتھروں کو بہاتے ہوئے لے کر پہنچ گیا۔اگر ہمیں نصف منٹ کی بھی تاخیر ہو جاتی تو ہم بیچ نہیں سکتے تھے مگر جسے خدا تعالی بچانا چاہے بھلا اسے کون مار سکتا ہے۔ہمارے کپڑے اور سلمان وغیرہ سب پانی سے تر ہو گیا۔ہم نے قریبی دوکان کے خالی حصے میں جا کر کپڑے وغیرہ تبدیل کئے اور اسی گاؤں میں رات گزاری۔اگلے دن پھر ناشتہ کر کے دوبارہ چل پڑے۔ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔کبھی کبھی دھوپ بھی نکل آتی تھی۔کوٹلی سے چند میل کے فاصلہ پر ایک "کس" ہے جسے بان کہتے ہیں وہ دریا کے قریب سے ہی عبور کرنا پڑتا تھا۔اس میں بھی بہت پانی آیا ہوا تھا اور مسافروں کو پار کرانے کے لئے مزدور لگے ہوئے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ زنانہ سواری کو گھوڑی پر بیٹھے بیٹھے ہی پار کراتا ہے۔چار مزدور ارد گرد حفاظت کے لئے ساتھ گئے