میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 123 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 123

111 اتار کر بولا کہ او جنم کی تیاری کرنے والے تیرے پاس خدا کا ایک بندہ تیری برادری کو لے کر آیا تھا تاکہ تجھے جہنم میں جانے سے روک لے مگر تو نے اسے روتے ہوئے لوٹا دیا۔اب میں تیری خبر لینے آیا ہوں اور یہ کہتے ہوئے اس نے تین چار جوتے میرے رسید کئے جنہیں میں برداشت نہ کر سکا اور میں نے روتے روتے اسے جواب دیا کہ میں ان مولوی صاحب کا کہا مان لوں گا آپ مجھے معاف کر دیں۔اس نے کہا ابھی جا کر ان سے معافی مانگو ورنہ اس جوتے سے تیری جان نکال دوں گا اور اتنے زور سے ایک اور جوتا مارا کہ میں بیدار ہو گیا اور سر بری طرح دیکھ رہا تھا۔میں نے یہ سارا واقعہ اسی وقت اپنی بیوی کو بتا دیا اور کہہ دیا کہ کسی سے ذکر نہ کرنا اور اب میں مولوی صاحب کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں اور وہی جو ان جوتا لے کر میرے تصور میں اب بھی کھڑا ہے۔میں گھر سے چپکے سے ہی نکل آیا ہوں کیونکہ سب لوگ سو رہے تھے۔خیال پیدا ہوا کہ امراؤ علی خان سے مولوی صاحب کا پتہ چل جائے گا۔جب میں شہر میں داخل ہوا تو پہرے دار سویا ہوا تھا۔چپکے سے نکل آیا ہوں اور اب میں توبہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی مرتد ہونے کا خیال بھی دل میں نہ لاؤں گا۔الحمد للہ۔میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔میں نے فورا - امراؤ علی خان کو جگایا اور اسے سارا ماجرا سنایا۔میرا چونکہ رات والا کھانا بھی ابھی پڑا ہوا تھا۔میں نے وہ منگوایا اور میں نے اور لعل خان نے مل کر کھایا۔فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد لعل خان کو رئیس اعظم امیر علی خان کے مکان پر لے گیا۔وہ بھی ساری کہانی سن کر بہت خوش ہوئے۔پھر میں نے ان سے مشورہ کیا کہ لعل خاص تو یہیں رہے اور میں ہاتھی پور میں جاکر وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر واپس آتا ہوں۔ہاتھی پور پہنچ کر الجبل خان کی تلاش کرنے لگا اور چپکے سے اس کی بیوی کو بتا دیا کہ لعل خان ہمارے پاس پہنچ چکا ہے اور امیر علی خان کی کوٹھی پر ہے اور باہر آکر تلاش جاری رکھی۔