میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 122
110 شخص ہے۔میرا دل بھر آیا۔قریب ہی چری کا ایک کھیت تھا اس میں گھس کر سجدہ ریز ہو گیا اور فریاد کی اور بڑے درد سے دعا کی۔زمین آنسوؤں سے تر ہوتی گئی۔ساتھ ہی میرے دل کی تسلی ہو گئی اور گھبراہٹ وغیرہ بھی جاتی رہی۔سورج غروب ہو رہا تھا۔بعدة امراد علی خان نمبردار کے مکان پر پہنچا۔اس نے بھی لعل خان کی حالت پر افسوس کا اظہار کیا اور مجھے بیٹھک میں آرام کرنے کے لئے کہا۔میں نے کہا کہ میں باہر تخت پوش پر رہوں گا۔کھانا میں نہیں کھاؤں گا اور صرف پانی کا ایک لوٹا دے دیں اور بس۔وہ مجھے پانی دے کر اندر چلا گیا۔میں نمازیں وغیرہ پڑھ کر بہت دعا ئیں کرتا رہا۔کافی رات اسی طرح گزر گئی۔آخر سو گیا تھوڑی دیر کے بعد ایک نے روتے ہوئے اور کانپتے ہوئے مجھے جگایا اور کہنے لگا مولوی صاحب خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں۔چونکہ اندھیرا تھا میں نے کہا کہ آپ کون ہیں کہنے لگا لعل خان۔میری عجیب سی کیفیت ہو گئی کہ کیا خواب دیکھ رہا ہوں یا بیدار ہوں۔آخر اپنے آپ کو ہوش میں پا کر اسے اپنے پاس بٹھایا اور دریافت کیا کہ اس وقت کیسے آئے؟ کہنے لگا ذرا ٹھہر جائیں تھوڑا سا آرام کرلوں۔میں نے تسلی دی کہ فکر نہ کرو کیا بات ہے۔بتانے لگا کہ مولوی صاحب جب آپ یہ شعر پڑھ کر واپس مڑے ہیں تو میں اسی وقت گھر سے باہر نکل گیا تھا تاکہ اپنے دل کی گھبراہٹ کو دور کر سکوں لیکن آہستہ آہستہ میری گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا گیا جس کی وجہ سے کھانے پینے کو بھی جی نہ چاہا۔گھر والوں نے کھانا نہ کھانے کی وجہ دریافت کی لیکن میری سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا غرضیکہ اسی حالت میں کافی رات گزر گئی اور پھر نیند آگئی۔تھوڑی دیر ہی سویا تھا کہ میں نے ایک بہت بڑا قد آور نوجوان دیکھا اس کی آنکھیں موٹی اور سرخ تھیں۔ساری زندگی میں نے کبھی اتنا بارعب شخص نہیں دیکھا تھا۔وہ آکر میرے سرہانے کھڑا ہو گیا اور اپنے پاؤں سے بہت بڑا جو تا جو ڈیڑھ دو فٹ کے قریب لمبا تھا