میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 124
112 آریہ بھی تلاش کرتے دکھائی دیے۔میں نے پوچھا کون کون سے مماشا پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مہاراجہ تروا مہاراجہ او گڑھ اور مہاراجہ سنو یہ تینوں اور ارد گرد کے پنڈت پہنچ چکے ہیں اور یانت تیاری کر رہے ہیں۔مگر اس وقت سب حیران ہیں کہ لعل خان کہاں چلا گیا ہے گھر میں بھی نہیں ہے اور نہ ہی کہیں گاؤں میں دکھائی دیتا ہے باہر وہ آج جا بھی نہیں سکتا تھا۔میں نے کہا کہ کل اس کی برادری کے بڑے بڑے لوگ یہاں آئے ہوئے تھے تو اس نے کیا جواب دیا تھا۔وہ کہنے لگے کہ ہمیں تو علم نہیں ہے۔میں نے کہا یہ جو راجے آئے ہوئے ہیں ان پر تو مقدمہ چلے گا کیونکہ یہ دنیا کے سیاسی مسئلوں میں تو دخل دے سکتے ہیں مگر یہ مذہبی معاملے میں دخل دینے آئے ہوئے ہیں اور یہ قانون کے خلاف ہے۔انہوں نے جا کر راجوں پر مقدمہ چلنے کا ذکر کیا۔یہ بات راجوں تک بھی پہنچ گئی اور وہ نصف گھنٹہ کے اندر اندر وہاں سے چلے گئے اور باقی لوگ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بٹ کر چلے گئے۔نہ تو کوئی شدھی ہوئی بلکہ بدھی یعنی عقل ٹھکانے آگئی۔جب یہ شور وغیرہ ختم ہو گیا تو لعل خان بھی گھر پہنچ گیا۔اب آریہ شرم کے مارے منہ بھی سامنے نہ کرتے تھے میں نے یہ سب حالات جج صاحب کو جا کر بتائے۔وہ بھی بہت محظوظ ہوئے۔فرخ آباد سے غیر احمدیوں کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا۔اس میں بعض واقعات درج کر کے یہ لکھا ہوا ہوتا تھا کہ اس ہتھیہ پور کی شدھی روکنے کا سہرا قادیانی مبلغ کے سر ہے جس نے نہایت جانثاری سے شب و روز دوڑ دھوپ کی اور آخر خدا تعالی نے انہیں کامیاب کر دیا۔کاش کہ ہمارے اچکن پہننے والے مولوی صاحبان بھی اپنی مولویت کے کوئی جو ہر دکھا ئیں۔جب کہ یہ ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔را جورہ گاؤں میں راجہ سنئو سے مقابلہ ایک دفعہ مکرم مهربان خان صاحب لوہاری والے میرے پاس اطلاع