میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 121 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 121

109 رہے ہیں۔یہ کوئی لعل خان کے رشتہ دار ہیں؟ رشتہ دار تو ہم ہیں مگر ہماری برادری یہ سنبھال رہے ہیں۔اور لوگوں پر کتنا افسوس ہے۔رئیسوں کے پاس گئے مگر کسی نے کھانا تک نہیں کھلایا۔اور نوکر کو آواز دی۔نوکر کی آواز آئی "حضور؟" اہے کوئی کھانے والی چیز موجود ہے؟ حضور نہیں۔ابے دودھ بھی نہیں؟ حضور ہے۔جلدی سے بڑا گلاس بھر کر لے آؤ اور حج صاحب اپنی الماری سے انگور نکال کر لے آئے اور کھانے کو کہنے لگے۔میں نے پاؤ بھر انگور اور دودھ پی لیا اور خدا تعالی کا شکر ادا کیا۔حج صاحب نے نوکر کو بلایا اور کہا کہ مولوی صاحب کو اچھی طرح پہچان لو۔جس وقت بھی تشریف لائیں خواہ آدھی رات ہی کیوں نہ ہو تازہ کھانا اور بستر وغیرہ دیتا ہے۔خواہ میری غیر حاضری میں ہی آئیں اور چار پائی کے پاس پانی کا لوٹا اور مصلی موجود رہے اور مجھ سے کہنے لگے کہ مولوی صاحب آپ کو خدا کی قسم آپ اپنا گھر سمجھ کر تشریف لایا کریں اور اگر ہو سکے تو آنے سے پہلے دو پیسے کا کارڈ لکھ دیا کریں کہ میں فلاں گاڑی سے آرہا ہوں تو ہمارا تانگہ آپ کو اسٹیشن سے لے آیا کرے گا میں نے کہا کہ جناب کی ہمدردی اور شفقت کا تہہ دل سے مشکور اور ممنون ہوں۔جج صاحب نے کہا کہ میرا بڑا لڑکا اپنے تانگے پر جائے گا آپ بھی اس پر سوار ہو جائیں اور دوپہر کا کھانا ہم مل کر کھائیں گے۔غرضیکہ میں تمام رؤوسا کو لے کر ہاتھی پور پہنچا۔راجہ ہادی یار خان صاحب نے لعل خان کو بہتیرا سمجھایا میں نے بھی پورا زور لگایا مگر اس نے سب کو ٹھکرا دیا۔سب رؤوسبا ناراض ہو کر سکوں پر سوار ہو کر واپس چلے گئے۔میں لعل خان کو یہ شعر سنا کر واپس چل پڑا۔ہم تو اپنا حق دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھے تو سمجھائے گا خدا ابھی نصف راستہ ہی طے کیا تھا کہ اس ناکامی کی وجہ سے سخت اضطراب میں خود بخود یہ مصرعہ زبان سے جاری ہو گیا کہ ” خیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب