میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 120 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 120

108 دین کی ایک بڑی بھاری خدمت کر کے ثواب دارین حاصل کر سکنے کا ایک سنہری موقع ہے۔اگر آپ عاجز کی درخواست قبول کر لیں تو بڑی نوازش ہو گی۔حج صاحب کہنے لگے مولوی صاحب آپ آگے والی کرسی پر تشریف لے آئیں۔میں آگے آکر بیٹھ گیا۔کہنے لگے اس وقت گیارہ بجے کا وقت ہے آپ نے ناشتہ کر لیا ہے؟ میں نے کہا کہ میرا ناشتہ وہی ہے اگر جناب جانے کا وعدہ کر لیں تو " آپ یہ بتائیں کہ ناشتہ کر لیا ہے کہ نہیں؟" میں نے کہنا "نہیں"۔اوہو پھر تو رات ہی کا کھانا کھایا ہوا ہے۔میں نے کہا نہیں رات کو بھی موقع نہیں ملا تھا۔بولے تو کیا کل دن کو کھانا کھایا تھا میں نے کہا نہیں پرسوں شام کو گھر سے کھایا تھا۔پھر بھاگم بھاگ موقع ہی نہیں ملا آپ پر سوں کہاں سے چلے تھے ؟ میں نے کہا نگلہ گھنو ضلع ایٹہ سے رات بارہ بجے پیدل چلا تھا اور اسٹیشن دریاد گنج سے سوار ہو کر اب تک بھاگا پھر رہا ہوں۔کہیں موقع ہی نہیں ملا کہ آرام سے بیٹھوں اور کھانا کھاؤں۔جج صاحب "استغفر الله" آپ کسی جماعت کی طرف سے وہاں تعینات ہیں۔؟" جناب احمدیہ جماعت قادیان کی طرف سے۔حج صاحب رقیق القلب بھی تھے۔آنکھوں میں آنسو بھی آگئے اور جوش سے میز پر ہاتھ مار کر کہنے لگے کہ خدا کی قسم اگر یہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں تو پھر دنیا میں کوئی بھی مسلمان نہیں ہے۔اللہ اللہ اتنی زبر دست تکلیف اسلام کے لئے اٹھانا انہیں لوگوں کا کام ہے۔اچھا یہ بتاؤ کسی اور جماعت کا مولوی بھی لعل خان کے پاس گیا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔وہ رئیس نوجوان بولے که خان صاحب ان کی یہ کوشش تو ثابت کرتی ہے کہ دوسرے مولوی ان کے خلاف بہت غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔جج صاحب۔میں تو ان مولویوں کو اپنی کو ٹھی میں گھنے نہیں دوں گا ان کی سب باتیں ان مولوی صاحب کے عمل سے غلط ثابت ہو رہی ہیں دیکھیں کیسی فقیرانہ کی صورت ہے اور دربدر مارے مارے پھر