میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 119 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 119

107 ہرگز کافر نہیں بنوں گی مگر اس بے چاری کی کون سنتا تھا۔جب میں اسے منانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو میں وہاں کے راجہ ہادی یار خاں صاحب کے پاس پہنچا اور ساری حقیقت بتائی۔انہوں نے وعدہ کیا کہ میں کل چار بجے فرخ آباد کے اسٹیشن پر ملوں گا۔واپس فرخ آباد آیا اور وہاں کے رئیس امیر علی خان صاحب کو سارا واقعہ سنایا تا کہ سب رؤوسا کے ذریعہ لعل خال پر اثر ڈالا جائے اور امراؤ علی خاں صاحب نمبردار شہر کو تیار کیا کہ آج چار بجے ہم اکٹھے وہاں چلیں گے۔میں پھر احمد علی خاں صاحب سیشن جج ریٹائرڈ گوالیار کی کوٹھی پر پہنچا۔میرے وہ واقف نہ تھے۔جا کر دیکھا کہ بڑے بڑے رئیس زادے دو مسلمان اور بھی بیٹھے ہیں۔میرے وہ بھی واقف نہ تھے اور قادیانیوں کی باتیں ہو رہی تھیں۔کہہ رہے تھے کہ یہ بڑے مرتد اور کپی لوگ ہیں۔کرتے کچھ بھی نہیں اور اخباروں میں بڑے کام کرنے کے دعویدار ہیں۔میں کیونکہ چپکے سے جا کر کرسی پر بیٹھ گیا تھا اور ان کی باتیں سن کر بہت افسوس کر رہا تھا۔احمد علی خاں ان کی باتوں کو سن کر کہہ رہا تھا کہ اگر مجھے کوئی قادیانی مل جائے تو میں اس پر فائر کر کے جان سے مار دوں گا۔میں نے موقع محل دیکھتے ہوئے خود ہی بات کا آغاز کر دیا کہ جناب خاں صاحب ہاتھی پور گاؤں جو آپ کے شہر کے قریب ہے گویا آپ کے پاؤں تلے ہے وہاں کا نمبردار لعل خاں سارے گاؤں سمیت مرتد ہونے کا وعدہ کر چکا ہے۔میں نے بہت کوشش کی تھی کہ وہ سمجھ جائے لیکن وہ مان نہیں رہا۔میں پھر راجہ ہادی یار صاحب کے پاس گیا وہ بھی اور رئیس اعظم امیر علی خان صاحب اور امراؤ علی خانصاحب بھی آج چار بجے ہاتھی پور میں جا کر اسے سمجھائیں گے آپ بھی خدا کے فضل سے ایک شریف اور نیک اور معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک معزز عہدہ سے ریٹائرڈ ہو کر خوش قسمتی سے تشریف لے آئے ہیں۔اگر آپ بھی تشریف لے چلیں شاید لعل خان پر اثر پڑ جائے تو