میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 118
106 خوش ہو گئے اور کہنے لگے کہ خدا اپنے بندوں کو کہیں شرمندہ نہیں ہونے دیتا حالانکہ مولوی صاحب کو بیلوں کی کیا شناخت تھی۔ایک دفعہ نگلہ گھنو میں حیلے سب جاتے رہے اک حضرت نواب ہے رات کے وقت میں اپنے گھر سویا ہوا تھا کہ ایک مہمان دوندے مئی ضلع فرخ آباد سے میرے پاس پہنچا اور مجھے جگا کر بتانے لگا کہ دو تین روز تک ہاتھی پور گاؤں جو ضلع فرخ آباد - متصل ہے وہ سارے کا سارا آریہ ہو جائے گا کیونکہ وہاں کے نمبردار لعل خاں نے کسی کا چھ ہزار روپیہ قرض دینا تھا جو آریوں نے اس شرط پر ادا کر دیا ہے کہ وہ نمبردار مع سارے گاؤں کے افراد کے مرتد ہو کر ان میں شامل ہو جائے گا۔اس بات کا تحریری معاہدہ ہو چکا ہے۔میں نے چونکہ اپنے حلقہ میں اطلاع دینے کی ڈیوٹی کی تھی اب میں نے آپ کو مطلع کر دیا ہے۔میری نیند وغیرہ تو جاتی رہی۔میں نے اسی وقت چمار کو بلوایا اور کتابوں کی صند و قیچی اسکے سر پر رکھوا کر اسی وقت چل پڑا۔گھر والے کہنے لگے کہ اس وقت رات کافی ہے صبح کے وقت چلے جانا۔میں نے کہا کہ نو میل پیدل چلنا پڑے گا پھر گاڑی ملے گی اس لئے ابھی چلوں گا تو گاڑی ملے گی ورنہ گاڑی چھوٹ جائے گی۔راستہ میں بکثرت سانپ اور بھیڑیئے وغیرہ ملے مگر خدا تعالٰی نے اپنے فضل و کرم سے ہر شر اور تکلیف سے محفوظ رکھا۔دریاؤ گنج اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔چمار کو مزدوری دے کر واپس روانہ کر دیا۔ریل پر سوار ہو کر فرخ آباد پہنچا۔وہاں سے تین میل پیدل چل کر ہا تھی پور پہنچا لحل خلال نمبردار کو بہت سمجھایا کہ ایسا کرنے سے باز آجاؤ۔پڑھے لکھے آدمی ہو عقل سے کام لو مگر دہ ایک نہ مانا۔بعدہ اس کے گھر پہنچا کیونکہ اس کی بیوی میرے ایک دوست کی بیٹی تھی۔وہ مجھے خوب جانتی تھی۔وہ مجھے دیکھ کر رو پڑی اور کہنے لگی کہ مولوی صاحب