میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 115 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 115

103 $ لڑکی بھی ان کے ساتھ تھی جو بڑی سریلی آواز میں بھجن گاتی تھی دوسرے باجے واج، طبلہ سارنگی غرضیکہ نوجوانوں کو خوش کرنے کے سب سامان موجود تھے۔لوگ انہیں دیکھتے جاتے اور اس لڑکی کی خوبصورتی کی بہت تعریف کرتے۔اس نے بھی بتاؤ سنگھار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔میں لوگوں کی باتیں سن کر حیران بھی تھا لیکن دعا میں مصروف رہا۔بوقت چار بجے دن آریوں کے پنڈت بھی وہاں پہنچ گئے۔بڑے زور و شور سے پوری کچوری کا انتظام ہوا۔ہمارا جاسوس محمد حسین خاں وہاں آتا جاتا رہا۔ان آریہ پنڈتوں نے مشورہ کیا کہ یہ قادیانی مولوی بڑا خطرناک ہے۔بد قسمتی سے ہندو بھی اس کے مداح ہو جاتے ہیں اس لئے اسلام پر طرح طرح کے اعتراض کر کے اسے خوب تنگ کرو۔جب وہ تھک جائے تو اسی وقت مناظرہ کا چیلنج دے کر مناظرہ شروع کر دو۔اب ایک ایک کر کے پنڈت جائیں اور اسے خوب تنگ کریں۔ان کی اس اسکیم کی ہمیں بھی اطلاع مل چکی تھی۔رات کو ابھی ہم تھوڑا سا ہی سوئے تھے کہ ہمارے قریب بہت شور بلند ہوا۔ایک ہندو لڑکا جس کی عمر بمشکل چودہ سال ہوگئی پیٹ میں شدید تکلیف کی وجہ سے چینی اور شور مچاتا تھا، ہائے میں جل گیا۔وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔سارا خاندان بہت حیران تھا۔گنگا پر ایک سادھو صاحب تھے۔ان کے پاس اس لڑکے کو لے گئے۔اس نے جواب دے دیا۔اب سمارا خاندان رو رہا تھا۔بہت بے بس ہو چکے تھے۔اس محمد حسین خاں نے ان ہندوؤں سے کہا کہ ہماری چوپال پر قادیانی مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں۔وہ اس کا علاج کریں گے۔اس لڑکے کی چیخ و پکار اور سخت تکلیف کی وجہ سے اس کے ساتھ ایک بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہو گیا تھا۔وہ سب لوگ جب میری طرف آئے تو میں ان کا شور سن کر بیدار ہو گیا۔انہوں نے ساری حقیقت مجھے بتائی۔میں نے جوش میں آکر کہہ دیا کہ آریہ پنڈت وید سے اس کا علاج کریں یہ ہندو بچہ سخت