میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 116 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 116

104 "1 تکلیف میں ہے۔اب ان پنڈتوں کو بلاؤ کہ وہ اگر موجودہ دید کی کرامت دکھائیں ورنہ اپنے ہتھکنڈوں سے خدا تعالی کی مخلوق کو جہنم کا ایندھن بنا کر خود کو بھی سزائے و اس یعنی دوزخ میں جانے والے نہ بنا ئیں۔میرا تمہارا اب اسی وقت فیصلہ ہو جائے گا۔تم دید کی صداقت اور اپنی روحانیت کا مظاہرہ کرا کر اثر ڈال لو کیونکہ مذہب کی غرض ہی یہی ہے کہ پرماتما سے تعلق پیدا ہو جائے اور اب اگر یہ آریہ میدان میں نہ نکلیں تو یہ جھوٹے ہوں گے اور میں خدا کے فضل سے قرآن کریم سے اس بچے کا علاج کروں گا۔اب وید اور قرآن پاک " کا مقابلہ ہے کہ دونوں میں سے کون سچا ہے۔وہ لوگ آریوں کو بلانے گئے اور انہوں نے مقابلہ میں آنے سے انکار کر دیا لیکن علاج ہوتا ہوا دیکھنے آگئے۔میں نے اپنے پیارے مولا کریم سے ہی دعا کی کہ میرے مولا کریم میں جو کچھ کرتا ہوں تیرے لئے کرتا ہوں کہ تیرا دین حق سچا ثابت ہو۔موٹی آپ ہی اس بچہ کو شفاء دے کر قرآن مجید کی برتری ثابت کردیں یہ سب لوگ جاہل اور موٹی عقل کے مالک ہیں۔ان پر اچھا اثر پڑ جائے گا۔پانی پڑھ کر پلایا اور دم کیا ہوا پانی اوپر چھڑ کا۔پہلے تو میرے ہاتھ پکڑنے سے بچے نے شور مچانا بند کر دیا۔عورتوں اور مردوں کا بڑا ہجوم تھا۔لوگ چھتوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔آریہ بھی دیکھ رہے تھے۔ان کی بھیجن گانے والی لڑکی بھی مستورات میں بیٹھی واقعہ دیکھ رہی تھی۔جب بچہ میرے ہاتھ لگانے سے ہی چیخنے سے رک گیا اور لٹانے پر بیہوش ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد دم کر کے پانی چھڑ کنے اور پلانے سے میرے محسن خدا تعالٰی نے اسکو بالکل ٹھیک کر دیا اور میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ دو شخص میرے دل پر چھرے مار رہے تھے۔میرا دل پھونکا جا رہا تھا کہ اچانک وہ یہ کہہ کر بھاگ گئے ہیں کہ " للے تیرو بدو اچھو ہتھو کہ جوہ مولبی پنجابی آگیا ورنہ تمکو آج ہم نے مار ڈار نا تھو" یعنی لڑکے تیری تقدیر اچھی تھی کہ پنجابی مولوی آگیا ورنہ آج ہم نے تمہیں