میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 114
102 تھا کہ ایک ہندو سے ان کی پرانی دشمنی چلی آرہی تھی کہ ایک دن اس ہندو نے اپنی ران پر روئی کا گدا رکھ کر خود ہی گولی مار لی اور شور مچا دیا کہ نواب بقاء اللہ خاں نے گولی ماری ہے۔کیونکہ نواب صاحب کا مکان اس کے مکان کے قریب ہی تھا۔آخر اس پر مقدمہ دائر ہو گیا جس میں اسے بہت مالی نقصان اٹھانا پڑا اور بعد میں چار سال کی سزا بھی بھگتنا پڑی۔انہیں سن کر دکھ ہوا مگر اس پر افسوس بھی بہت تھا کیونکہ خدا تعالٰی کے ماموروں کو گالیاں دینا بہت برا ہوتا ہے جو کہ وہ اکثر دیا کرتا تھا۔قرآن کریم اور دید قرآن کریم کی برکت سے ایک ہندو نوجوان کی کربناک حالت سے نجات ایک دفعہ ایک رشتہ دار محمد حسین خاں گنگٹی گاؤں کا رہنے والا جو دریائے گنگا کے عین کنارہ پر آباد تھا اور ضلع فرخ آباد میں تھا میرے پاس آیا اور بتانے لگا کہ ہمارے گاؤں میں آریہ تین دن کے بعد آئیں گے اور گاؤں میں رہنے والوں کو شدھ ہونے کی تحریک کریں گے۔ہم چونکہ انہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے لہذا آپ ضرور چلیں ورنہ ہمارے گاؤں کی خیر نہیں میں اگلے دن فجر کے وقت ہی اس کے ساتھ چل پڑا۔ہمارے ساتھ رئیس جان محمد خان صاحب اور ان کے بیٹے مظفر خان صاحب اور ان کے علاوہ نمبردار بھیجو خاں صاحب بھی چل پڑے کیونکہ وہاں بہت بڑا میلہ بھی تھا اور انہیں بیل خریدتا تھے۔ہم نصف شب کے قریب وہاں پہنچے۔نمازیں ہم نے راستہ ہی میں پڑھ لی تھیں۔چاندنی رات تھی۔کھانا کھاتے کھاتے سحری کا وقت ہو گیا۔گرمی کا موسم تھا۔ذرا ہی سوئے تھے کہ فجر کا وقت ہو گیا۔نماز وغیرہ پڑھی۔وہاں ان کے رشتہ دار اکٹھے ہو گئے۔انہیں اسلام کی صداقت کی باتیں بتائیں آریہ بھی منڈلی لے کر آگئے۔ایک خوبصورت نوجوان