میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 106
94 اس علاقہ کے سب برہمن ایک بر همن زادی کی پر اسرار بیماری اور شفایابی میری بہت عزت کرتے تھے۔لوہاری کے پاس ایک گاؤں بدو پور ہے اور وہ سارا گاؤں برہمنوں کا ہے وہاں کے سب سے بڑے رئیس برہمن جن کا نام غالبا رام بھجن پنڈت تھا ان کی نوجوان لڑکی جس کی پندرہ یوم کے بعد شادی ہونے والی تھی اس قسم کی بیماری میں مبتلا ہو گئی کہ جب اسے دورہ پڑتا تو اس قسم کا جوش اس میں پیدا ہو تا کہ ہر پاس آنے والے کو کاٹتی اور سارے بدن کے کپڑے پھاڑ ڈالتی تھی۔جوں جوں انہوں نے اسے دوائی دی توں توں بیماری کا زور بڑھتا گیا وہاں ایک دو سادھو بہت مشہور تھے۔ان کے پاس لڑکی کو لے کر گئے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔اس جگہ کے یہ سب لوگ بہت ہی وہمی تھے۔جس بیماری کا علاج نہ ہو سکتا یہ کہہ دیتے تھے کہ جادو ہو گیا ہے۔کسی نے جادو کر دیا ہے یا اس پر جنوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔انہیں بھی کسی سادھو نے یہ کہہ دیا کہ اس پر کوئی جن عاشق ہو گیا ہے اور وہ بہت بڑا ہے جو کہ میری طاقت سے باہر ہے کہ میں اس کا مقابلہ کر سکوں۔اس نے اپنے جنتر منتر بہت چلائے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔وہ لوگ بہت مایوس ہو گئے اور قریب تھا کہ بارات روک دیتے۔ادھر ہمارے گاؤں کی عورتیں اور مرد میرے ایسے معتقد ہو گئے تھے کہ جب کسی کو مر درد ہو تو ”مولوی صاحب دم کر دو“ اگر پیٹ درد ہو تو سونف پڑھ دو اور اگر بخار ہو تو پانی پڑھ دو میں ان کی دلجوئی کے لئے دعا کر کے دم کر دیتا۔خدا تعالٰی شفا دے دیتا اور اس طرح میری عزت بھی بن جاتی آہستہ آہستہ ارد گرد کے دیہات کے ہندو مسلمان عورتیں اور بچے بھی آنا شروع ہو گئے غرضیکہ خوب شہرت ہو گئی ایک دن ایک ہندو اس گاؤں بدو پور میں گیا وہاں اس لڑکی کی بیماری کا بہت چرچا تھا۔وہ ہندو لڑکی کے باپ پنڈت کے پاس گیا اور خدا جانے اس سے کیا کہا۔میرے متعلق باتیں روو