میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 107 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 107

95 بتا ئیں تو کہتے ہیں کہ مرتا کیا نہ کرتا پنڈت صاحب اپنے دو بیٹوں کی مدد سے اس لڑکی کو رسی سے باندھ کر میری طرف چل پڑے۔اڑھائی میل کا فاصلہ ان کے لئے تمہیں میں بن گیا۔بڑی مشکل سے وہ میرے پاس اس وقت پہنچے جب میں عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر ابھی اکیلا مسجد میں ہی بیٹھا تھا کہ باہر سے شیخ کی آواز آئی۔باہر چاند کی روشنی تھی۔باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خوبصورت نوجوان لڑکی کو رسیوں سے باندھے ہوئے اس کے بھائی دور دور کھڑے ہیں کیونکہ وہ انہیں کاٹتی تھی۔اس کے کھلے ہوئے بال بکھرے ہوئے ہیں۔سر پر کوئی کپڑا نہیں ہے امنگہ پہنے ہوئے تھی۔انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہنے لگے کہ مولوی صاحب ہم اپنی لڑکی کو آپ کی تعریف سن کر لائے ہیں۔اس کا کوئی علاج کریں۔میرا اپنا دل اس بچی کو مصیبت میں دیکھ کر افسردہ اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔اور دل سے اس کی شفایابی کے لئے دعا نکل رہی تھی۔میں نے انہیں تسلی دی اور اس کے بھائیوں سے اس کے پاؤں دھلا کر صف پر اسے بٹھا لیا اور اللہ تعالی کا نام لے کر اسے بازو سے پکڑ لیا۔گاؤں کے مرد اور عورتیں کافی تعداد میں وہاں اکٹھے ہو گئے۔پنڈت جی کو سب نے پہچان لیا۔میں نے اپنے گھر سے صاف پانی کا گلاس منگوایا اور اس بچی کو صف: لٹا کر اس پر اپنا صافہ ڈال دیا اور سب سے کہہ دیا کہ اس جگہ اب کوئی بات نہ کرے۔درد دل سے دعا کی اور پانی کا پہلا چمچہ جب میں اس کے منہ میں ڈالنے لگا تو لڑکی بے ہوش ہو چکی تھی اور اس کا منہ بند تھا۔میں نے پنڈت کو اشارہ سے کہا کہ اس کا منہ کھولو تاکہ پانی ڈالا جا سکے۔کہنے لگے مجھ سے نہیں کھلتا آپ ہی کھولیں۔خیر میں نے منہ کھول کر دو تین چمچ پانی ڈالا تو لڑکی نے انگڑائی لی۔مجھے بھی قدرے تسلی ہوئی پھر دعا شروع کر دی اور اس پر پانی چھڑ کا۔وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔بارہ دنوں سے بیمار اس لڑکی کو نصف گھنٹہ کے بعد خدا تعالٰی نے بات کرنے کی توفیق دی۔میں نے