میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 105
93 سے دنیا کا آغاز ہوا دید اس وقت سے ہے تو پھر اب اسے گھر گھر ہونا چاہئے اور ساری دنیا اب تک اپنی اپنی زبانوں میں اس کا ترجمہ کر چکی ہوتی اور بچوں کو سکھا رہی ہوتی اس کے برعکس اس کی یہ حالت ہے کہ ہندوستان میں اردو زبان بولی جاتی ہے مگر آج تک اس کا اردو میں بھی ترجمہ نہیں ہو سکا اور انگریزی ہندی جو رد لکھی ، عربی ، عبرانی یونانی، لاطینی، جرمنی، فرانسیسی، فارسی، پشتو، مرہٹی، ملایا اور دوسری زبانوں کا تو اردو میں ترجمہ ہو گیا لیکن اس دید کا اردو میں ترجمہ نہیں ہو سکا جس کا مطلب یہ ہوا کہ دینی ، دنیوی اور سیاسی و تمدنی لحاظ سے وید بے ثمر کا مقام ہی رکھتا ہے اس کے مقابلہ میں قرآن کریم ہر ملک میں پڑھا جاتا ہے اور اس کی بے شمار تفسیریں اردو عربی انگریزی اور فارسی زبان میں ہر ملک میں موجود ہیں اور اب مزید بیسیوں زبانوں میں ہو رہی ہیں۔آپ نے نیوگ وغیرہ کی تعلیم کی وجہ سے اسکی تعلیم کو چھپایا ہوا ہے اور میں نے دھمکی بھی دی کہ اگر آپ نے اسلام پر یا بانی اسلام پر کوئی گندہ اعتراض کر کے اپنا آریہ ہونے کا ثبوت دیا تو میرے پاس یہ ستیارتھ پرکاش اور منو شماستر اور دیگر مطلب کی کتابیں موجود ہیں آریہ سماج کا سارا گند نکال کر پبلک کے سامنے رکھ دوں گا۔تمام مناظرہ مذکورہ بالا باتوں کے ارد گرد ہی چکر لگاتا رہا اور بڑے امن سے ختم ہوا۔بعد مناظرہ دوسرے مولوی صاحبان مرحبا اور جزاک اللہ کہتے رہے۔بعدہ آریہ مناظر اگر ملا اور کہنے لگا میں قادیانی مولویوں کو مذہبی عالم خیال کرتا ہوں۔آپ کا بہت بہت شکریہ اور آپ آج بھوجن ہمارے ہاں ہی کھائیں گے میں نے کہا آپ کا بہت شکریہ میرے اس جگہ اور بہت سے لوگ واقف ہیں۔دوسرے ہم کھانا کھا کر آئے ہیں۔سب ہندو اور مسلمان یہ کہہ رہے تھے کہ قادیانی مولوی کے ذریعے اسلام کی فتح ہوئی ہے۔آریہ مناظر تھا تو بڑا ہو شیار مگر قادیانی مولوی صاحب کا رعب پڑ گیا اور آخر تک حواس باختہ رہا۔