میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 97
85 نماز پڑھائی مگر مولوی صاحب سوئے ہی رہے۔سورج نکلنے پر وہ بیدار ہوئے اور مٹی کا لوٹا لیکر پاخانہ کرنے کے لئے چلے گئے۔اس علاقہ میں مٹی کے لوٹے سے آب دست کرنا سخت جرم سمجھا جاتا تھا۔وہاں لوگوں نے مولوی صاحب کو اس حالت میں دیکھ لیا اور ان میں سے کسی ایک نے مجھے بھی مطلع کر دیا۔بے چارے مولوی صاحب مار سے تو بچ گئے مگر اب انہیں کوئی چوپال پر چڑھنے نہیں دیتا تھا۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ کوئی حرکت بھی میرے پوچھے بغیر نہ کیا کریں کیونکہ یہ لوگ بڑے سخت ہیں۔مولوی صاحب بہت ڈر گئے۔میں نے انہیں سلوایا اور ہاتھ وغیرہ منجھوائے تو وہ مجھے بیت میں ہی لے کر بیٹھ گئے اور مجھے بتانے لگے کہ مجھے ساٹھ روپے ماہوار دے کر انجمن دیو بند اگرہ نے اس گاؤں میں بھیجا ہے کہ آپ کو نکال کر اس گاؤں پر قبضہ کروں مگر یہاں آکر معلوم ہوا ہے کہ اگر میں نے آپ کو نکالنے کا نام بھی لیا تو پٹ جاؤنگا۔لہذا اب آپ ہی مجھے کوئی راہ بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔اور باقی زندگی کس طرح گزارنی چاہئے۔میں نے کہا کہ قریب ہی گڑھی ہے اور وہاں بھی ہمارے مبلغ رہے ہیں مگر آجکل وہ جگہ خالی ہے۔وہاں بیت بھی ہے۔آپ اگر وہاں ڈیرہ لگالیں تو بڑی اچھی بات ہو گی ہم آپس میں ملتے بھی رہیں گے۔میں بوقت فرمت وہاں آجایا کرونگا اور آپ بھی فرصت کے وقت یہاں آجایا کریں۔انہوں نے میری اس تجویز کو بہت پسند کیا۔ہم نے پرائیویٹ طور پر تمام کے تمام اختلافی مسائل تقریبا حل کر لئے تھے۔اگلے دن صبح کے وقت میں اسے وہاں چھوڑنے گیا۔اور سب لوگوں سے اس کا تعارف بھی کروا دیا۔میں نے انہیں کہا کہ آپ لوگوں نے دوسرے لوگوں کا اثر لیکر ہمارا مبلغ یہاں سے نکال دیا تھا جس کی وجہ سے آپ کے بچے قرآن کریم پڑھنے سے محروم رہ گئے اور آپ لوگوں کا بہت زیادہ حرج ہوا۔آپ لوگوں کی نسبت نگلہ والوں کی بہت ہی مخالفت ہوئی مگران