میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 98 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 98

86 کے پاس جب بھی کوئی آیا تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہمارے مولوی سے بحث کر لو۔اگر تم جیت گئے تو ہم تمہیں رکھ لیں گے۔ہم لوگ سینکڑوں سالوں سے مسلمان ہیں۔تم اس سے قبل کبھی منہ دکھانے کو بھی نہیں آئے اور اب جب کہ ہمارے بچے قرآن پڑھ گئے ہیں تو تم کہتے ہو کہ ان کو نکال دو تاکہ ہم علم سے محروم رہ جائیں؟ اب ہم مولوی صاحب کو اپنی زندگی میں اپنے منہ سے نہیں کہہ سکتے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔حالانکہ نگہ والے بھی آپ ہی کے بھائی تھے۔مگر پھر بھی آپ سے ہماری ہمدردی ہے۔اب ہم نے آپ کو دیو بندی مولوی صاحب لا دیتے ہیں۔ان کی خدمت کرو اور تعلیم حاصل کرو۔مولوی صاحب کا سامان بہت مختصر تھا۔میں نے مولوی صاحب سے اپنے سامان کی خود حفاظت کرنے کا ذکر کیا اور اپنے مبلغوں کی چیزیں چرائے جانے کا بھی بتایا۔بعدہ مولوی صاحب سے سلام کر کے واپس لوٹ آیا۔مولوی صاحب بھی کچھ دور مجھے چھوڑنے آئے وہاں سے لوٹنے کے بعد بچوں کو سبق پڑھایا۔جب عصر کا وقت ہوا تو مہدی حسن صاحب میرے پاس پہنچ گئے اور کہنے لگے کہ میں سارا دن اکیلا بیٹھے بیٹھے گھبرا گیا تھا۔کھانا بھی کسی نے نہیں دیا۔اس لئے آپ کے پاس آگیا ہوں۔میں نے کہا کہ ہم لوگ ہر جگہ اپنا ہی کھانا کھاتے ہیں۔ہمارے مبلغ بھی اس جگہ اپنا ہی کھانا کھاتے تھے۔آپ فکر نہ کریں شام کو آپ کے پاس لوگ جمع ہو جائیں گے۔میں نے گھر سے کھانا منگوا کر انہیں کھلایا اور واپس رخصت کیا۔دوسرے دن میں بچوں کو سبق پڑھا کر مولوی صاحب کے پاس گیا اور ایک گھر میں ان کے کھانے کا انتظام کر کے واپس لوٹ آیا۔تیسرے روز مولوی صاحب پھر بستر اور سامان اٹھائے میرے پاس پہنچ گئے۔میں پھر انہیں کھانا کھلا کر واپس چھوڑنے گیا اور لوگوں سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کیوں ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔وہ بولے کہ مولوی صاحب ہمیں چور سمجھتے ہیں۔جب پاخانہ کرنے