مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 4
منظور چنیوٹی اور اس کا فضیلۃ الشیخ انہی غداروں اور ہندوؤں اور انگریزوں کے ایجنٹوں کے سایہ تلے منظور احمد چنیوٹی صاحب نے ۱۹۳۱ء میں زندگی کا پہلا سانس لیا۔ہوش کی آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ احراریوں کی زبر دست مخالفت کے باوجود پاکستان قائم ہو چکا ہے۔۱۹۵۰ء وو میں وہ ٹنڈوالہ یار سندھ کے دار العلوم اسلامیہ “ ( دیوبندی مدرسہ ) سے فارغ ہوئے اور ۱۹۵۷ء میں اپنے بیان کے مطابق مولوی غلام اللہ خان سے قرآن مجید میں تخصص کیا۔ان کے الفاظ یہ ہیں: اخذ التخصص في التفسير لدى فضيلة الشيخ غلام الله خان في السنة ۱۹۵۱ء۔القادياني ومعتقداته اشاعت ۱۳۹۴ھ) اللہ جلشانہ نے چودہ صدیاں قبل اپنے مقدس کلام میں اعلان فرمایا تھا کہ :- لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ :۸۰) یعنی اسے صرف مطہر چھوتے ہیں۔خاتم الانبیاء ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا گیا کہ بندے کی پاکیزگی کیا ہے؟ آنحضرت اللہ نے ارشاد فرمایا : " عمل صالح يلهمه اياه (جامع الصغير للسیوطی صفحه ۱۲ جلد اول) عمل صالح جسے اللہ تعالیٰ اسے الہام فرماتا ہے۔اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ علم قرآن کی حقیقی رسائی صرف پاک باطن اور صاحب الہام بزرگوں ہی کے لئے ممکن ہے۔بد نام زمانہ Ceris مگر چنیوٹی صاحب کی نظر انتخاب قرآن میں تخصص کے لئے ایک ایسے بدنام 4