مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن

by Other Authors

Page 5 of 25

مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 5

زمانہ شخص پر پڑی جس کا ”قرآنی علم “ اپنے مرشد مولوی حسین علی کی تفسیر بلغة الحیران کی ذوقیات تک محدود تھا۔اس تفسیر کے متعلق چنیوٹی صاحب کے دیو بندی بزرگوں کا فتویٰ یہ ہے کہ : یہ تفسیر مسلمانوں کیلئے مضر ہے"۔(سید مہدی حسن صدر مفتی دار العلوم دیوبند)۔1 " بلاشبہ عقائد اہل سنت والجماعت سے متصادم ہے“۔مفتی محمد شفیع سابق مفتی مدرسه دیو بند ) مصنف کا کوئی مذہب نہیں ، نہ عقائد اہلسنت و جماعت کے موافق ہیں۔" ( مفتی کفایت اللہ دہلوی) ایسا طائفہ ملت اسلام سے خارج ہے۔(مولوی عبد الجبار بگڑہ) (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مولوی غلام مہر علی صاحب کی کتاب ”دیوبندی مذہب صفحہ ۱۴۹۔طبع دوم مکتبہ حامد یہ گنج بخش روڈ لاہور ) یہ تو مرشد کامل کا حال ہے۔اب اس کے مرید اور چنیوٹی صاحب کے فضيلة الشیخ غلام اللہ خان کی ” قرآن دانی“ اور ”تقدس“ کی تفصیل مجلس احرار پشاور شہر کے صدر اور مدیر روزنامہ ”الفلاح “ پشاور حافظ سید عبداللہ شاہ (متوفی ۲۳ اکتو بر ۱۹۹۰ء) کے قلم سے ہدیہ قارئین کی جاتی ہے۔لکھتے ہیں: 33 یہ شخص دریا آباد ضلع اٹک کا رہنے والا تھا۔غربت کی وجہ سے مساجد میں پرورش پائی اور دینی علوم کے لئے دیوبند چلا گیا۔وہاں سے فارغ ہو کر گجرات کی ایک مسجد میں دس روپے ماہوار کا امام مقرر ہوا۔یہ ایک لڑکے کے ساتھ خلاف وضع فطری میں بدنام ہو کر راتوں رات وہاں سے نکل کر مری میں سنی بینک کے ایک ٹھیکیدار کے پاس اس کی مسجد کا امام بن گیا۔اور اس کے بچوں کو قرآن مجید پڑھانے پر مامور ہو گیا تھا۔سات روپے ماہوار تنخواہ اور روٹی دی جاتی تھی۔5