مسیحی انفاس — Page 543
۵۴۳ میں ہیں جیسا کہ حضرت عیسیٰ نے دعوی کیا تھا کہ میں یہود کا بادشاہ ہوں اور اس دعوی پر روم کی گورنمنٹ میں مخبری ہوئی کہ یہود تو سلطنت رومیہ کے ماتحت ہیں مگر یه شخص دعوی کرتا ہے کہ یہود میری رعایا ہیں اور میں ان کا بادشاہ ہوں۔اس پر جب گورنمنٹ رومی نے جواب طلب کیا تو آپ نے فرمایا کہ میری بادشاہی اس جہان کی نہیں بلکہ بادشاہی سے مراد آسمان کی بادشاہت ہے۔اب دیکھئے کہ ابتداء میں خود حضرت عیسی کا خیال تھا کہ مجھے زمین کی بادشاہت ملے گی اور اسی خیال پر ہتھیار بھی خریدے گئے تھے مگر آخر کار وہ آسمان کی بادشاہت نکلی پس کیا بعید ہے کہ زلزلہ سے مراد بھی ان کی کوئی آسمانی امر ہی ہو۔ورنہ زمین شام میں تو ہمیشہ زلزلے آتے ہی ہیں۔ایسی زمین کے متعلق زلزلہ کی پیش گوئی کرنا ایک مخالف کی نظر میں تمسخر کی جگہ ہے۔ایسا ہی حضرت عیسی نے فرمایا تھا کہ میرے بارہ حواری بارہ تختوں پر بہشت میں بیٹھیں گے۔یہ پیش گوئی بھی انجیل میں موجود ہے مگر ایک ان حواریوں سے یعنی یہودا اسکر یوطی مرتد ہو کر مر گیا۔اب بتلاؤ باراں تختوں کی پیش گوئی کس طرح صحیح ہو سکتی ہے اگر کوئی جوڑ توڑ آپ کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی سمجھادیں ہم ممنون ہوں گے۔یہاں تو کسی استعارہ کی بھی کچھ پیش نہیں جاتی۔ایسا ہی حضرت عیسی نے فرمایا تھا کہ اس زمانہ کے لوگ ابھی گزر نہیں جائیں گے کہ میں واپس آؤں گا۔پس جو لوگ ان کو آسمان پر چڑھائے بیٹھے ہیں کیا نصاری اور کیا مسلمان۔اس بات کا جواب ان کے ذمہ ہے کہ انیس صدیاں تو گذر گئیں مگر ابھی تک حضرت عیسی واپس نہیں آئے اور انہیں صدیوں تک جو لوگ عمریں پوری کر چکے تھے وہ سب خاک میں مل گئے لیکن اب تک کسی نے حضرت عیسی کو آسمان سے اتر تے نہ دیکھا۔پھر وہ وعدہ کہاں گیا کہ اس زمانہ کے لوگ ابھی زندہ ہوں گے کہ میں واپس آجاؤں گا۔غرض ایسی پیش گوئیوں پر جس نے ناز کرتا ہے بیشک کر بے ہم تو قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت عیسی کو سچا نبی مانتے ہیں ورنہ اس انجیل کی رو سے جو موجود ہے ان کی نبوت کی بھی خیر نہیں۔عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں مگر ہمیں ان کی نبوت ہی ثابت کر نا بجز ذریعہ قرآن شریف کے ایک غیر ممکن امر معلوم ہوتا ہے۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۶۲ تا ۲۶۴ نیز دیکھیں۔نسیم دعوت روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۱، ۳۸۲