مسیحی انفاس — Page 544
۵۴۴ بصره حال میں ایک یہودی کی تالیف شائع ہوئی ہے جو میر اس وقت موجود ہے گویا وہ محمد حسین یا ثناء اللہ کی تالیف ہے وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ اس شخص یعنی عیسی سے ایک معجزہ بھی ظہور میں نہیں آیا اور نہ کوئی پیش گوئی اس کی بچی نکلی۔وہ کہتا تھا مسیح کی پیش گوئیوں پر کہ داؤد کا تخت مجھے ملے گا۔کہاں ملا۔وہ کہتا تھا کہ بارہ حواری بہشت میں بارہ سخت پائیں ایک یہودی مصنف کا گے کہاں بارہ کو وہ تخت ملے۔یہودا اسکر یوطی تیس روپیہ لیکر اس سے برگشتہ ہو گیا اور حواریوں میں سے کاٹا گیا۔اور پطرس نے تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی کی وہ تخت کے لائق رہا۔اور نیز کہتا تھا کہ اس زمانہ کے لوگ ہنوز نہیں مریں گے کہ میں واپس آ جاؤں گا کہاں واپس آیا۔اور پھر یہ یہودی لکھتا ہے کہ اس شخص کے جھوٹا ہونے پر یہی کافی ہے که ملاکی نبی کے صحیفہ میں ہمیں خبر دی گئی تھی کہ سچا مسیح جو یہودیوں میں آنیوالا تھا وہ ہر گز نہیں آئے گا جب تک الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آجائے۔پس کہاں الیاس آسمان سے نازل ہوا۔اور پھر اس جگہ بہت شور مچاتا ہے اور لوگوں کے سامنے اپیل کرتا ہے کہ دیکھو ملا کی نبی کی کتاب میں پیش گوئی تو یہ تھی کہ خود الیاس دنیا میں دوبارہ آجائیگا اور یہ شخص یوحنا کو (جو مسلمانوں میں بجلی کے نام سے مشہور ہے ) الیاس بتاتا ہے۔گویا اس کا تقلیل قرار دیتا ہے۔مگر خدا نے تو ہمیں متیل کی خبر نہیں دی۔اس نے تو صاف فرمایا تھا کہ خود الیاس دوبارہ آجائے گا اور ہم قیامت کو اگر پوچھے بھی جائیں تو یہی کتاب خدا کے سامنے پیش کر دیں گے کہ تو نے کہاں لکھا تھا کہ تکمیل الیاس قبل مسیح موعود بھیجا جائے گا۔اور ان تحریرات کے بعد حضرت مسیح کی نسبت سخت بد زبانی کرتا ہے۔کتاب موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔پیش گوئیوں میں اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۱۰، ۱۱۱ حضرت مسیح کی پیش گوئی میں نہ کسی خارق عادت زلزلہ کا ذکر ہے اور نہ کسی خارق عادت مری یا طاعون کا۔اس صورت میں کوئی عظمند ایسی پیش گوئیوں کو عظمت اور خوارق نہیں وقعت کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۳