مسیحی انفاس — Page 506
۵۰۶ کریں مگر رعا لراب بالخصوص رعایت شرایط بحث کے لحاظ سے میرے مخاطب اس بارہ میں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب ہیں۔صاحب موصوف کو چاہئے کہ انجیل شریف کی علامات قرار دادہ کے موافق سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں اپنے وجود میں ثابت کریں اور اس طرف میرے پر لازم ہو گا کہ میں سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں قرآن کریم کے رو سے اپنے وجود میں ثابت کروں۔مگر اس جگہ یادر ہے کہ قرآن کریم ہمیں اقتدار نہیں بخشا بلکہ ایسے کلمہ سے ہمارے بدن پر لرزہ آتا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کا نشان دکھلائے گاوہی خدا ہے سوا اس کے اور کوئی خدا نہیں ہاں یہ ہماری طرف سے اس بات کا عہد پختہ ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے میرے پر ظاہر کر دیا ہے کہ ضرور مقابلہ کے وقت میں فتح پاؤں گا۔مگر یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور سے نشان دکھلائے گا اصل مدعا تو ہے کہ نشان ایسا ہو کہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو یہ کیا ضرور ہے کہ ایک بندہ کو خدا ٹھرا کر اقتدار کے طور پر اس سے نشان مانگا جائے ہمارا یہ مذہب نہیں اور نہ ہمارا یہ عقیدہ ہے اللہ جل شانہ ہمیں صرف عموم اور کلی طور پر نشان دکھلانے کا وعدہ دیتا ہے۔ا اس میں میں جھوٹا نکلوں تو جو سزا آپ تجویز کریں خواہ سزائے موت ہی کیوں نہ ہو مجھے منظور ہے۔لیکن اگر آپ حد اعتدال و انصاف کو چھوڑ کر مجھ سے ایسے نشان چاہیں گے جس طرز سے حضور مسیح بھی دکھلا نہیں سکتے بلکہ سوال کرنے والوں کو ایک دو گالیاں سناویں تو ایسے نشان دکھلانے کا دم مارنا بھی میرے نزدیک کفر ہے۔جنگ مقدس روحانی خز آئن جلد ۶ صفحه ۱۵۶ ۱۵۷ یہ بھی یادر کھنا چاہئے کو جو کچھ عجائب و غرائب اہل حق پر منکشف ہوتے ہیں اور جو کچھ برکات ان میں پائے جاتے ہیں وہ کسی طالب پر تب کھونے جاتے ہیں کہ جب وہ طالب حضرت مسیح نے موجود کمال صدق اور اخلاص سے بہ نیت ہدایت پانے کے رجوع کرتا ہے اور جب وہ ایسے طور دکھانے سے انکار کیا سے رجوع کرتا ہے تو تب جس قدر اور جس طور سے انکشاف مقدر ہوتا ہے وہ بارادہ خالص الہی ظہور میں آتا ہے مگر جس جگہ سائل کے صدق اور نیت میں کچھ فتور ہوتا ہے اور سینہ خلوص سے خالی ہوتا ہے تو پھر ایسے سائل کو کوئی نشان دکھلایا نہیں جاتا۔یہی عادت خداوند تعالیٰ انبیاء کرام سے ہے جیسا کہ یہ بات انجیل کے مطالعہ سے نہایت ظاہر ہے کہ کئی مرتبہ یہودیوں نے مسیح سے کچھ معجزہ دیکھنا چاہا۔تو اس نے معجزہ دکھلانے سے